Technology
بھارتی فضائیہ کے ایس یو-30 ایم کے آئی طیاروں میں جدید ویروپاکشا ریڈار کی شمولیت
بھارت اپنی فضائیہ کے ایس یو-30 ایم کے آئی جنگی طیاروں میں جدید ترین دیسی ساختہ ویروپاکشا ریڈار نصب کر رہا ہے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی طیارے کی صلاحیتوں کو کئی گنا بڑھا دے گی اور اسے دور سے ہی دشمن کے اسٹیلتھ طیاروں کو پہچاننے کے قابل بنائے گی۔
بھارت اپنی فضائی طاقت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ایک بڑے اقدام کے طور پر اپنے روس ساختہ ایس یو-30 ایم کے آئی (Su-30MKI) جنگی طیاروں میں ایک انقلابی تبدیلی لا رہا ہے۔ اس منصوبے کا مرکزی حصہ طیارے کے پرانے روسی ریڈار سسٹم کو ہٹا کر اس کی جگہ مقامی طور پر تیار کردہ جدید 'ویروپاکشا' (Virupaksha) ایکٹو الیکٹرانیکلی اسکینڈ ایرے (AESA) ریڈار کی تنصیب ہے۔ یہ اقدام نہ صرف بھارتی دفاعی صنعت کی خود انحصاری کی جانب ایک اہم قدم ہے بلکہ یہ ان طیاروں کی آپریشنل صلاحیتوں کو بھی ایک نئی بلندی پر لے جائے گا۔
نئے ویروپاکشا ریڈار کی سب سے بڑی خوبی اس کی غیر معمولی رینج اور ہدف کو تلاش کرنے کی صلاحیت ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ ریڈار روایتی جنگی طیاروں کو 300 سے 400 کلومیٹر کے فاصلے سے ہی شناخت کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اس اضافے کے ساتھ، ایس یو-30 ایم کے آئی اب دشمن کے اسٹیلتھ طیاروں کو بھی بہت پہلے پہچاننے کے قابل ہو جائے گا، جو پہلے ایک بڑا چیلنج سمجھا جاتا تھا۔ اس ریڈار کا 'دیسی دماغ' یعنی اس کا سافٹ ویئر اور ہارڈویئر مکمل طور پر بھارت میں تیار کیا گیا ہے، جس سے بھارتی فضائیہ کو کسی غیر ملکی تکنیکی مدد پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
اس اپ گریڈیشن سے بھارتی فضائیہ کو علاقائی سطح پر ایک اسٹریٹجک برتری حاصل ہوگی۔ ایس یو-30 ایم کے آئی، جو پہلے ہی اپنی کارکردگی اور رینج کی وجہ سے مشہور ہے، اب جدید ترین سینسرز اور ریڈار کے ساتھ ایک 'اسٹیلتھ شکاری' میں تبدیل ہو رہا ہے۔ یہ ریڈار بیک وقت متعدد اہداف کو ٹریک کرنے اور انہیں درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے میں مدد فراہم کرے گا، جس سے فضائی جنگ کے دوران بھارتی پائلٹس کو اپنے حریفوں پر واضح برتری ملے گی۔
مستقبل قریب میں یہ اپ گریڈیشن بھارت کے دفاعی منصوبوں کا لازمی حصہ ہوگی۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس پروجیکٹ کی کامیابی دوسرے طیاروں کے لیے بھی دروازے کھولے گی تاکہ انہیں جدید ٹیکنالوجی سے لیس کیا جا سکے۔ روس ساختہ ائیر فریم اور بھارتی ساختہ الیکٹرانکس کا یہ امتزاج دنیا بھر میں دفاعی ماہرین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ جیسے جیسے یہ ٹیکنالوجی طیاروں میں نصب کی جائے گی، بھارتی فضائیہ کی مجموعی لڑاکا طاقت میں کئی گنا اضافہ متوقع ہے، جس سے جنوبی ایشیا کے فضائی توازن پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔