LIVE
Loading Breaking News...

اٹلی کے میوزیم سے نشاۃ ثانیہ کے نایاب پینٹنگز کی چوری

News Image
اٹلی کے جزیرے سسلی میں واقع ایک میوزیم سے نشاۃ ثانیہ کے دور کے چار انتہائی قیمتی اور نایاب فن پارے چوری کر لیے گئے ہیں۔ حکام نے اس واردات کو ایک انتہائی جرات مندانہ اور منصوبہ بند کارروائی قرار دیا ہے جس نے میوزیم کی سیکیورٹی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
اٹلی کے جزیرے سسلی کے ایک معروف میوزیم میں ایک انتہائی جرات مندانہ ڈکیتی کا واقعہ پیش آیا ہے جس نے عالمی آرٹ مارکیٹ اور ثقافتی ورثے کے حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق نامعلوم چوروں نے ایک بڑی کارروائی کے دوران نشاۃ ثانیہ کے دور (Renaissance) کی چار انتہائی نایاب اور تاریخی اہمیت کی حامل پینٹنگز کو میوزیم سے غائب کر دیا ہے۔ یہ واردات ایسے وقت میں ہوئی جب اٹلی میں عام تعطیلات کا ماحول تھا، جس سے چوروں کو اپنی منصوبہ بندی پر عمل درآمد کرنے کا موقع ملا۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ چوری کسی عام مجرمانہ گروہ کا کام نہیں بلکہ یہ ایک منظم اور ماہر نیٹ ورک کی کارروائی معلوم ہوتی ہے جو آرٹ چوری میں مہارت رکھتے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، چوروں نے میوزیم کی سیکیورٹی کے جدید نظام کو چکمہ دینے کے لیے انتہائی پیچیدہ طریقہ کار استعمال کیا ہے۔ جن فن پاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے ان میں انتونیلو دا میسینہ کے کام بھی شامل ہیں، جن کی عالمی منڈی میں قیمت کا اندازہ لگانا ناممکن ہے۔ میوزیم انتظامیہ نے اس واقعے کو ایک بڑا سانحہ قرار دیا ہے کیونکہ یہ صرف پینٹنگز کی چوری نہیں بلکہ انسانی تاریخ کے ایک سنہری دور کے ورثے کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ اطالوی حکام نے اس واقعے کے بعد پورے ملک کے میوزیمز اور آرٹ گیلریز میں سیکیورٹی ہائی الرٹ جاری کر دی ہے تاکہ مزید ایسی کارروائیوں کو روکا جا سکے۔ اس ڈکیتی نے دنیا بھر کے میوزیمز کی سیکیورٹی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اتنے بڑے میوزیم سے اس قدر آسانی کے ساتھ تاریخی اثاثے چوری ہو سکتے ہیں، تو چھوٹی گیلریوں اور دیگر ثقافتی مقامات کا تحفظ کس قدر غیر محفوظ ہے۔ پولیس نے انٹرپول کی مدد سے بین الاقوامی سطح پر تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ ان قیمتی فن پاروں کو دوبارہ حاصل کیا جا سکے اور چوروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ اٹلی کی وزارت ثقافت نے اس واردات کو قومی ورثے پر حملہ قرار دیا ہے اور واقعے کی شفاف تحقیقات کا وعدہ کیا ہے۔ فی الحال میوزیم کو عوام کے لیے بند کر دیا گیا ہے اور تفتیشی ٹیمیں شواہد اکٹھا کرنے میں مصروف ہیں، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ پینٹنگز کسی نجی کلیکٹر کو بیچنے کے لیے چوری کی گئی ہیں۔