Education
جی سی ایس ای نتائج: لڑکیاں مسلسل 38ویں سال لڑکوں سے آگے
برطانیہ میں جی سی ایس ای کے حالیہ نتائج میں لڑکیوں کی لڑکوں پر مسلسل 38ویں سال برتری نے ماہرین کو نئی بحث میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماہر تعلیم پروفیسر ایلن سمتھز کا کہنا ہے کہ تعلیمی کارکردگی میں یہ فرق محض اتفاق نہیں بلکہ صنفی صلاحیتوں میں فطری تفاوت کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
برطانیہ میں منعقد ہونے والے جی سی ایس ای (GCSE) امتحانات کے نتائج نے ایک بار پھر تعلیمی ماہرین اور ماہرین نفسیات کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، طالبات مسلسل 38ویں سال طلباء کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں، جس سے یہ بحث دوبارہ شروع ہو گئی ہے کہ تعلیمی میدان میں یہ صنفی خلیج آخر کیوں برقرار ہے۔ اس حوالے سے یونیورسٹی آف بکنگھم کے پروفیسر اور ممتاز ماہر تعلیم ایلن سمتھز نے ایک اہم نظریہ پیش کیا ہے جس میں انہوں نے اس بات کا امکان ظاہر کیا ہے کہ دونوں جنسوں کے درمیان یہ تعلیمی فرق محض اتفاق نہیں بلکہ فطری اور جبلّی ہو سکتا ہے۔
پروفیسر ایلن سمتھز کا کہنا ہے کہ جی سی ایس ای کے حالیہ نتائج اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ لڑکیوں کی تعلیمی کامیابیوں کا تسلسل ایک طویل عرصے سے برقرار ہے، جسے صرف سماجی عوامل یا اساتذہ کے رویوں سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق، مردوں اور عورتوں کے دماغی ساخت اور کام کرنے کے انداز میں جو فطری تفاوت موجود ہے، وہ تعلیمی اداروں میں نظر آنے والے نتائج پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اگرچہ ماضی میں یہ بحث ہوتی رہی ہے کہ لڑکیوں کی کامیابیوں کے پیچھے ان کی محنت یا اسکولوں کا ماحول کارفرما ہے، تاہم اب اس نظریے کو بھی تقویت مل رہی ہے کہ صنفی بنیادوں پر سیکھنے کی صلاحیتیں مختلف ہو سکتی ہیں۔
دوسری جانب، ماہرین کی ایک بڑی تعداد اس معاملے کو متوازن نقطہ نظر سے دیکھنے پر زور دیتی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگرچہ حیاتیاتی عوامل کچھ حد تک اثر انداز ہو سکتے ہیں، لیکن اسکولوں کا نصاب اور جانچ کا موجودہ نظام بھی لڑکیوں کی مہارتوں کے زیادہ موافق ہو سکتا ہے۔ جی سی ایس ای امتحانات کا ڈھانچہ جس طرح مسلسل مطالعہ اور منظم تحریری کام پر زور دیتا ہے، وہ اکثر طالبات کے لیے زیادہ سازگار ثابت ہوتا ہے۔ اس طویل عرصے میں جاری رہنے والی برتری نے حکومت اور تعلیمی پالیسی سازوں کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا نصاب میں تبدیلی کی ضرورت ہے یا پھر ہمیں ان صنفی رجحانات کو ایک حقیقت کے طور پر قبول کر لینا چاہیے۔
اس بحث کے معاشی اور سماجی اثرات بھی گہرے ہیں۔ تعلیمی میدان میں لڑکیوں کی یہ کامیابی انہیں مستقبل کے پیشہ ورانہ کیریئر میں بھی ایک مضبوط مقام دلا رہی ہے۔ تاہم، پروفیسر سمتھز کا یہ انکشاف کہ یہ فرق 'فطری' ہو سکتا ہے، آنے والے دنوں میں تعلیمی نفسیات کے ماہرین کے لیے مزید تحقیق کا نیا میدان کھول سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صنفی تفاوت کو سمجھنا اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ طلباء کی صلاحیتوں کے مطابق تعلیمی نظام کو بہتر بنایا جا سکے اور کسی بھی صنف کو تعلیمی پسماندگی سے بچایا جا سکے۔