Technology
چاند پر قبضے کی جنگ: چین اور امریکہ کے درمیان خلائی مقابلے کا آغاز
چین کی خلائی ٹیکنالوجی میں تیزی سے ترقی نے عالمی طاقتوں خصوصاً امریکہ کو نئی خلائی دوڑ کے حوالے سے فکر مند کر دیا ہے۔ امریکی سینیٹرز نے خبردار کیا ہے کہ اکیسویں صدی کی یہ خلائی مسابقت اب جغرافیائی سیاست کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔
خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں چین کی تیزی سے ہوتی پیش رفت نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے، جس کے بعد امریکہ سمیت دیگر مغربی طاقتیں شدید تشویش میں مبتلا نظر آتی ہیں۔ امریکی سینیٹر ٹیڈ کروز نے حال ہی میں ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ہم اکیسویں صدی کی ایک نئی خلائی دوڑ کے بیچ میں کھڑے ہیں۔ یہ وہ مقابلہ ہے جو کئی دہائیوں تک پسِ پردہ رہا، لیکن اب یہ عالمی جغرافیائی سیاست کے مرکزی دھارے میں شامل ہو چکا ہے۔ چین کی جانب سے خلائی مشنز میں کیے جانے والے کامیاب تجربات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بیجنگ اب صرف ایک مقامی خلائی قوت نہیں رہا بلکہ وہ عالمی سطح پر امریکہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر ابھرا ہے۔
ماہرین کے مطابق، چین کا چاند پر انسان بردار مشن بھیجنے کا منصوبہ اس نئی دوڑ کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ چینی خلائی ایجنسی نہ صرف اپنے خلائی اسٹیشن کو مستحکم کر رہی ہے بلکہ وہ چاند کے جنوبی قطب پر تحقیق کے لیے جدید آلات اور روبوٹکس ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کر رہی ہے۔ امریکہ کے لیے سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ اگر چین چاند پر اپنی موجودگی کو مستقل بنا لیتا ہے تو وہ وہاں موجود معدنی وسائل اور دیگر اسٹریٹجک اثاثوں پر اپنا کنٹرول مضبوط کر سکتا ہے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا کے حکام نے بھی خبردار کیا ہے کہ خلا میں کسی بھی ملک کی اجارہ داری عالمی امن اور سائنسی ترقی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
دوسری جانب چینی حکام کا موقف ہے کہ ان کا خلائی پروگرام پرامن مقاصد اور انسانیت کی فلاح کے لیے ہے۔ تاہم، بین الاقوامی مبصرین کا ماننا ہے کہ خلائی ٹیکنالوجی کا براہ راست تعلق ملٹری طاقت سے بھی ہے۔ جو ملک خلا میں جتنی زیادہ دسترس رکھتا ہوگا، وہ زمین پر بھی اتنا ہی زیادہ بااثر ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اب امریکہ بھی اپنے خلائی بجٹ میں اضافہ کر رہا ہے اور 'آرٹیمس' جیسے منصوبوں کے ذریعے چاند پر دوبارہ انسان اتارنے کی کوششوں کو تیز کر دیا گیا ہے۔ آنے والا وقت یہ طے کرے گا کہ چاند کی سطح پر کس ملک کا تکنیکی غلبہ قائم ہوتا ہے اور یہ نئی سرد جنگ کس حد تک شدت اختیار کرتی ہے۔