LIVE
Loading Breaking News...

عمان مذاکرات اور آبنائے ہرمز دو الگ الگ امور ہیں: عباس عراقچی

News Image
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ سلطنت عمان میں جاری مذاکرات اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے امور باہم جڑے ہوئے نہیں بلکہ دو الگ الگ مسائل ہیں۔ انہوں نے ان معاملات پر تہران کا موقف دوٹوک انداز میں دنیا کے سامنے رکھا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک اہم بیان میں واضح کیا ہے کہ سلطنت عمان میں ہونے والے مذاکرات اور بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھولا جانا دو بالکل الگ اور جداگانہ مسائل ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر اس بات پر کافی بحث کی جا رہی تھی کہ آیا ان دونوں امور میں کوئی براہ راست تعلق ہے یا تہران اس حوالے سے کوئی مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرے گا، تاہم ایرانی وزیر خارجہ کے تازہ بیان نے تمام قیاس آرائیوں کو ختم کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں امور کی نوعیت مختلف ہے اور ان کو آپس میں خلط ملط نہیں کیا جانا چاہیے۔ عباس عراقچی کے اس بیان کو خطے کی موجودہ سیاسی اور سفارتی صورتحال میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا بھر کے تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی حساس اور کلیدی رستہ ہے، جہاں سے گزرنے والے جہازوں اور سلامتی کے حوالے سے ہمیشہ سے عالمی طاقتوں کی توجہ مبذول رہتی ہے۔ ایران کی جانب سے ان معاملات پر الگ الگ مؤقف اپنانے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تہران بین الاقوامی مذاکرات اور اپنے تزویراتی مفادات کو ایک متوازن حکمت عملی کے تحت آگے بڑھانا چاہتا ہے۔ سلطنت عمان روایتی طور پر مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں ایک ثالث اور امن کے لیے کوشاں ملک کا کردار ادا کرتا رہا ہے، جہاں ایران اور دیگر عالمی یا علاقائی فریقین کے درمیان اہم سفارتی روابط برقرار رہتے ہیں۔ عما ن میں ہونے والی بات چیت کا دائرہ کار سفارتی اور سیاسی نوعیت کا ہے، جب کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی اور اس کا کھلنا علاقائی اور بین الاقوامی میری ٹائم قوانین سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کا یہ واضح موقف اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ ہر مسئلے کو اس کی اپنی منطق اور بنیاد پر حل کرنے کا خواہاں ہے۔ مستقبل قریب میں ان دونوں امور پر ہونے والی پیش رفت خطے کی معیشت، توانائی کی سپلائی اور عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرے گی۔ دنیا بھر کے مبصرین عباس عراقچی کے اس بیان کا بغور جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ آیا ایران آنے والے دنوں میں سفارتی سطح پر مزید لچک کا مظاہرہ کرے گا یا اپنے روایتی دفاعی اور تجارتی مؤقف پر قائم رہے گا۔