LIVE
Loading Breaking News...

ہارورڈ پروفیسر کے اے آئی سے تحریر کردہ کالم پر تنازعہ

News Image
ہارورڈ یونیورسٹی کے ممتاز ماہر معاشیات ریکارڈو ہاؤس مین کو اپنے ایک کالم میں مصنوعی ذہانت کا سہارا لینے پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ نقادوں کا کہنا ہے کہ ان کے تحریری کام میں اے آئی کا غیر معمولی عمل دخل ہے جو علمی دیانتداری کے اصولوں کے خلاف ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی کے معروف ماہر معاشیات ریکارڈو ہاؤس مین اس وقت ایک شدید تنازعہ کی زد میں آ گئے ہیں جب ان پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف لکھے گئے اپنے ایک اہم کالم کی تیاری میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا غیر معمولی اور غیر شفاف استعمال کیا۔ اس معاملے نے تعلیمی اور صحافتی حلقوں میں علمی دیانتداری کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ ایک ممتاز پروفیسر کا اپنے خیالات کے اظہار کے بجائے ٹیکنالوجی کے ٹولز پر انحصار کرنا ان کی پیشہ ورانہ ساکھ کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ سوشل میڈیا اور تعلیمی فورمز پر یہ معاملہ تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جہاں صارفین یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا یہ تحریر مکمل طور پر ان کی اپنی تھی یا اسے کسی اے آئی ماڈل سے تیار کروایا گیا تھا۔ اس تنازعے کی جڑیں اس وقت گہری ہوئیں جب تجزیہ کاروں نے ہاؤس مین کے کالم کے لہجے اور ساخت میں غیر معمولی مماثلتیں پائیں جو عام طور پر مصنوعی ذہانت کے تیار کردہ متن میں دیکھی جاتی ہیں۔ اگرچہ ہاؤس مین نے ابھی تک ان الزامات پر کوئی حتمی وضاحت نہیں دی، لیکن یونیورسٹی کے اندر اور باہر ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ایک پروفیسر اپنے مضامین لکھنے کے لیے ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے لگے، تو اس سے مستقبل میں تحقیق اور آزادانہ فکر کے معیار پر برا اثر پڑے گا۔ اس معاملے نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ کیا تعلیمی اداروں کو مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے باقاعدہ ضابطہ اخلاق مرتب کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔ دوسری جانب ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی ٹولز کا استعمال اب دنیا بھر میں عام ہو رہا ہے، تاہم کسی بھی سنجیدہ علمی یا سیاسی بحث کے لیے ان کا استعمال کرنا اخلاقی اعتبار سے مشکوک سمجھا جاتا ہے۔ ریکارڈو ہاؤس مین، جو ہارورڈ یونیورسٹی میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں، پر ہونے والی یہ تنقید دیگر تعلیمی ماہرین کے لیے بھی ایک سبق ہے۔ اس واقعے نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں ایک مصنف کی ساکھ کو بچانے کے لیے شفافیت کتنی ضروری ہے۔ اب ہر طرف نظریں اس بات پر جمی ہیں کہ کیا ہارورڈ انتظامیہ اس معاملے کا نوٹس لیتی ہے اور کیا پروفیسر ہاؤس مین کی جانب سے کوئی باضابطہ جواب سامنے آئے گا یا نہیں۔ یہ تنازعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مصنوعی ذہانت کا بڑھتا ہوا اثر اب معاشرے کے ہر طبقے، یہاں تک کہ دانشورانہ حلقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔