LIVE
Loading Breaking News...

امریکی فوج کا ڈرون ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے نیا اقدام

News Image
امریکی فوج نے اب نجی ڈرون کمپنیوں کو اپنے تربیتی مراکز اور رینجز تک رسائی حاصل کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کی جانچ کو تیز کرنا اور دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہے۔
امریکی فوج کی جانب سے ایک انتہائی اہم اور تزویراتی فیصلے کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت اب نجی ڈرون کمپنیاں امریکی فوج کے مخصوص تربیتی مراکز اور ٹیسٹنگ رینجز تک رسائی کی درخواست کر سکیں گی۔ ماضی میں ان سہولیات تک رسائی صرف ان کمپنیوں تک محدود تھی جن کے پاس پہلے سے ہی حکومت کے ساتھ شراکت داری یا بڑے سرکاری ٹھیکے موجود ہوتے تھے، تاہم اب اس نئی پالیسی کے بعد نجی شعبے کے لیے راستے ہموار کر دیے گئے ہیں۔ اس تبدیلی کا بنیادی مقصد جدید ترین ڈرون ٹیکنالوجی کی جانچ کے عمل کو تیز کرنا اور دفاعی شعبے میں جدت کو فروغ دینا ہے۔ حکام کے مطابق، اس فیصلے سے نہ صرف ڈرون بنانے والی نجی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کو سخت ترین ملٹری حالات میں ٹیسٹ کرنے کا موقع ملے گا بلکہ امریکی فوج کو بھی یہ معلوم ہو سکے گا کہ مارکیٹ میں کون سی نئی ٹیکنالوجیز دستیاب ہیں۔ پانچ مختلف فوجی تنصیبات کو اس مقصد کے لیے کھولا گیا ہے، جہاں کمپنیاں اپنے ڈرونز کی کارکردگی، نیویگیشن، سینسرز اور مواصلاتی صلاحیتوں کو جانچ سکیں گی۔ یہ اقدام امریکی فوج کی اپنی دفاعی صلاحیتوں کو جدید بنانے کی کوششوں کا ایک حصہ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر ڈرون ٹیکنالوجی جنگی حکمت عملیوں میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ اس نئے پروگرام کے تحت درخواست گزار کمپنیوں کو کسی بھی قسم کے سابقہ سرکاری معاہدے کی قید نہیں ہوگی، جس سے چھوٹی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی فرموں کو بھی یکساں مواقع میسر آئیں گے۔ تاہم، فوج کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ تمام نجی کمپنیوں کو سیکیورٹی پروٹوکولز اور سخت ضابطہ اخلاق کی پابندی کرنا ہوگی۔ ان ٹیسٹنگ مراکز میں ہونے والے تجربات سے حاصل ہونے والا ڈیٹا دونوں فریقین کے لیے مفید ثابت ہوگا، جس سے مستقبل میں ڈرون طیاروں کی تیاری اور ان کی تعیناتی کے عمل میں درپیش چیلنجز پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکی عسکری طاقت اور نجی ٹیکنالوجی کے شعبے کے درمیان تعاون کا ایک نیا باب ثابت ہوگا۔ یہ نہ صرف دفاعی بجٹ کے بہتر استعمال کو ممکن بنائے گا بلکہ ایسی ٹیکنالوجی کی تیاری میں بھی تیزی لائے گا جو جدید میدانِ جنگ کے تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ امریکی محکمہ دفاع کا یہ قدم نجی شعبے کے اعتماد کو بحال کرنے اور ٹیکنالوجی کی دوڑ میں برتری برقرار رکھنے کی ایک حکمت عملی ہے جس کے اثرات آنے والے برسوں میں دنیا بھر کی دفاعی صنعتوں پر مرتب ہوں گے۔