Technology
مصنوعی ذہانت اور آڈٹ: ایف آر سی کے نئے رہنما اصول
فنانشل رپورٹنگ کونسل نے آڈیٹرز اور ریگولیٹرز پر زور دیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کے دوران آڈٹ کے معیار اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھیں۔ کونسل نے انتباہ کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے انضمام کے ساتھ اخلاقی معیارات پر سمجھوتہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
فنانشل رپورٹنگ کونسل (FRC) نے حالیہ ہدایات میں تمام آڈیٹرز اور ریگولیٹرز پر زور دیا ہے کہ وہ مالیاتی نظام میں مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے کردار کے پیش نظر انتہائی احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ کونسل کا ماننا ہے کہ اگرچہ جدید ٹیکنالوجی آڈٹ کے عمل کو تیز اور درست بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، تاہم اس کا استعمال آڈٹ کی مجموعی سالمیت اور شفافیت کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔ ایف آر سی نے واضح کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت محض ایک معاون ٹول ہے، لیکن اس کے نتائج کی حتمی ذمہ داری انسانی آڈیٹرز پر ہی عائد ہوتی ہے، لہذا ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔
اس ضمن میں جاری کردہ ہدایات میں اخلاقی پہلوؤں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ ایف آر سی نے تنبیہ کی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز میں ممکنہ تعصب یا غلط ڈیٹا کے استعمال سے مالیاتی رپورٹنگ میں سنگین خامیاں پیدا ہو سکتی ہیں، جو براہ راست عوامی اعتماد کو متزلزل کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ ریگولیٹرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسی نگرانی کا نظام وضع کریں جس میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے آڈٹ کے عمل کو باقاعدگی سے چیک کیا جا سکے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ٹیکنالوجی اخلاقی معیارات کی پاسداری کر رہی ہے۔ آڈیٹنگ کے اداروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے عملے کی مہارتوں کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ان اخلاقی تقاضوں کو بھی سمجھیں جو ایک شفاف آڈٹ کے لیے ضروری ہیں۔
مزید برآں، کونسل نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ ڈیجیٹل دور میں مالیاتی رپورٹنگ کی ساکھ برقرار رکھنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ مصنوعی ذہانت کا ذمہ دارانہ استعمال نہ صرف مالیاتی اعداد و شمار کی درستی کو یقینی بنائے گا بلکہ سرمایہ کاروں اور عوام کا اعتماد بھی مضبوط کرے گا۔ ایف آر سی کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے درست استعمال سے آڈٹ کے شعبے میں ایک نیا انقلاب آ سکتا ہے، بشرطیکہ اسے انسانی نگرانی اور سخت ضوابط کے تحت چلایا جائے۔ آنے والے وقتوں میں ریگولیٹرز کی جانب سے ان معیارات پر سختی سے عمل درآمد کروانے کی توقع ہے تاکہ مالیاتی منڈیوں میں استحکام کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جا سکے۔