Technology
مصنوعی ذہانت کا مستقبل روشن ہے: انتھروپک سی ای او ڈاریو اموڈی
انتھروپک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاریو اموڈی نے مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے بارے میں اپنی مبینہ مایوسی کے تاثرات کی تردید کی ہے۔ انہوں نے ایک سرمایہ کار کی جانب سے کی گئی تنقید کا جواب دیتے ہوئے ٹیکنالوجی کے مثبت اثرات پر زور دیا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی 'انتھروپک' کے سی ای او ڈاریو اموڈی نے ان حالیہ الزامات کی سختی سے تردید کی ہے جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ مصنوعی ذہانت (AI) کے انسانیت پر اثرات کے حوالے سے ضرورت سے زیادہ مایوسی کا شکار ہیں۔ حال ہی میں ایک سرمایہ کار گیون بیکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر ایک پوسٹ کے ذریعے یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اموڈی کا رویہ ٹیکنالوجی کے مستقبل کے بارے میں مایوس کن ہے۔ اس تنقید کے جواب میں ڈاریو اموڈی نے واضح کیا کہ ان کا مقصد اے آئی کے خطرات کو چھپانا نہیں بلکہ ایک ذمہ دارانہ اور محفوظ طریقہ کار وضع کرنا ہے۔
اموڈی کا کہنا ہے کہ وہ اے آئی کے ٹیکنالوجی کے طور پر انتہائی مثبت حامی ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ انسانیت کے درپیش بڑے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کا محتاط مطالعہ اسے پرخطر بنانا نہیں ہے، بلکہ یہ اس بات کو یقینی بنانے کی ایک کوشش ہے کہ ٹیکنالوجی کے فوائد نقصانات سے کہیں زیادہ ہوں۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کے ماہرین کی ذمہ داری ہے کہ وہ تخلیق کردہ نظام کی پیچیدگیوں کو سمجھیں تاکہ اسے معاشرے کے لیے محفوظ اور فائدہ مند بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ انتھروپک کمپنی اپنے اے آئی ماڈلز، خاص طور پر 'کلاڈ' (Claude) کے لیے جانی جاتی ہے، جس پر کمپنی نے حفاظت اور اخلاقیات کے سخت معیارات لاگو کیے ہیں۔ ڈاریو اموڈی کا موقف ہے کہ درست سمت میں تحقیق اور حکومتی و نجی سطح پر ضابطہ اخلاق کی تشکیل سے مصنوعی ذہانت ایک نیا انقلاب برپا کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق، اے آئی کے بارے میں کسی بھی قسم کی تنبیہ کو مایوسی سے تعبیر کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ یہ درحقیقت ٹیکنالوجی کو بہتر اور پائیدار بنانے کا ایک عمل ہے۔
آخر میں، اموڈی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ مستقبل کے بارے میں پرامید ہیں اور اے آئی کی ترقی میں پیش آنے والی رکاوٹوں کو حل کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔ انہوں نے سرمایہ کاروں اور عوام پر زور دیا کہ وہ تکنیکی ترقی کے ساتھ ساتھ ان کے اخلاقی پہلوؤں کو سمجھیں تاکہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت انسانی ترقی کا بہترین ذریعہ ثابت ہو سکے۔ ان کے اس بیان سے ٹیکنالوجی کی دنیا میں اے آئی کی حفاظت اور اس کے مستقبل کے بارے میں جاری بحث کو ایک نئی جہت ملی ہے۔