World
400 ملین پاؤنڈ کے نئے جیل میں بدانتظامی اور عملے کا بحران
برطانیہ میں حال ہی میں تعمیر کیے گئے 400 ملین پاؤنڈ کے نئے جیل خانے میں انتظامیہ کی جانب سے ناقص انتظامات اور عملے کی شدید کمی کا انکشاف ہوا ہے۔ سابق ملازمین نے جیل کے اندر کے ماحول کو افراتفری کا شکار اور تربیت کی کمی سے بھرپور قرار دیا ہے۔
برطانیہ میں حال ہی میں تعمیر کیے جانے والے 400 ملین پاؤنڈ مالیت کے انتہائی جدید اور بڑے جیل خانے کے بارے میں تشویشناک رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ سابق ملازمین کی جانب سے جیل کے اندرونی حالات کو 'افراد تفری کا شکار' قرار دیا گیا ہے، جس نے حکومتی دعووں پر کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ملازمت چھوڑنے والے افراد کا کہنا ہے کہ جیل کے انتظام و انصرام میں شدید خامیوں کی وجہ سے قیدیوں اور جیل کے عملے دونوں کی حفاظت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جیل کے اندر عملے کی شدید کمی ہے، جس کی وجہ سے ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں پر کام کا دباؤ انتہائی حد تک بڑھ چکا ہے۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ انہیں مناسب تربیت فراہم کیے بغیر ہی براہ راست ڈیوٹی پر تعینات کر دیا گیا، جس کی وجہ سے روزمرہ کے امور کی انجام دہی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف جیل کے معمول کے کاموں کو متاثر کر رہی ہے بلکہ قیدیوں کے ساتھ رابطے اور سکیورٹی پروٹوکولز پر عمل درآمد کو بھی مشکل بنا رہی ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ جیل کے اندر نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے درکار بنیادی وسائل کا بھی فقدان ہے، جس کے باعث جیل کا ماحول غیر محفوظ اور غیر مستحکم ہو چکا ہے۔ اگرچہ یہ منصوبہ جدید ٹیکنالوجی اور بہتر سہولیات کے وعدوں کے ساتھ شروع کیا گیا تھا، لیکن حقیقت میں وہاں کی انتظامی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ حکام کی جانب سے تاحال ان سنگین الزامات پر کوئی جامع ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم جیل انتظامیہ پر مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اندرونی حالات کو بہتر بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھائے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر جیلوں میں عملے کی کمی اور تربیت کے فقدان جیسے مسائل کو جلد حل نہ کیا گیا تو یہ مستقبل میں بڑے سکیورٹی بحران کا باعث بن سکتے ہیں۔ 400 ملین پاؤنڈ جیسے خطیر بجٹ کے باوجود اس طرح کی انتظامی ناکامی عوامی ٹیکس کے پیسوں کے ضیاع پر بھی سوال اٹھاتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ان الزامات کی تحقیقات کرواتی ہے یا نہیں تاکہ قیدیوں اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔