World
نارویجن بادشاہ کی علالت: ہسپتال منتقلی اور شاہی مصروفیات میں تعطل
ناروے کے 89 سالہ بادشاہ کو طبی معائنے اور علاج کے لیے ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ شاہی محل نے تصدیق کی ہے کہ بادشاہ کو صحت کے مسائل کے پیش نظر کچھ عرصے کے لیے چھٹی دی گئی ہے۔
ناروے کے 89 سالہ بادشاہ ہیرالڈ پنجم کو طبی معائنے اور علاج کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ شاہی محل کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ یورپی تاریخ کے طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والے بادشاہوں میں شمار ہونے والے ہیرالڈ پنجم کو خون کی ایک نایاب بیماری کا سامنا ہے جس کے باعث انہیں طبی امداد کی ضرورت پیش آئی ہے۔ حکام نے مزید بتایا کہ بادشاہ کو ڈاکٹروں کی سخت نگرانی میں رکھا گیا ہے تاکہ ان کی طبیعت کو مستحکم کیا جا سکے۔
شاہی محل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بادشاہ کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں طبی بنیادوں پر سرکاری فرائض سے عارضی طور پر سبکدوش کر دیا گیا ہے۔ اس دوران ان کی تمام طے شدہ مصروفیات منسوخ کر دی گئی ہیں اور ان کی بحالی تک شاہی امور کے حوالے سے متبادل انتظامات کیے جائیں گے۔ عوام اور میڈیا سے گزارش کی گئی ہے کہ اس مشکل وقت میں شاہی خاندان کی رازداری کا احترام کیا جائے اور کسی بھی قسم کی قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے۔
واضح رہے کہ ناروے کے بادشاہ ہیرالڈ پنجم طویل عرصے سے عوامی اور حکومتی امور میں متحرک رہے ہیں۔ ان کی عمر اور بڑھتی ہوئی طبی مشکلات کے باعث گزشتہ کچھ عرصے میں ان کی صحت کے حوالے سے کافی تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم، شاہی محل نے ہمیشہ ان کی صحت سے متعلق شفاف معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ناروے کے عوام اور بین الاقوامی برادری ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کر رہے ہیں، کیونکہ وہ نارویجن عوام کے درمیان ایک انتہائی مقبول اور قابل احترام شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں ڈاکٹروں کی ٹیم ان کے ٹیسٹ کے نتائج کی روشنی میں علاج کے اگلے لائحہ عمل کا تعین کرے گی۔ فی الحال بادشاہ کی حالت تسلی بخش بتائی جا رہی ہے لیکن مکمل صحت یابی کے لیے انہیں مکمل آرام کا مشورہ دیا گیا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ شاہی محل کی جانب سے ان کی صحت کی بہتری کے حوالے سے وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹس فراہم کی جاتی رہیں گی۔ ناروے کے سیاسی حلقوں نے بھی بادشاہ کی علالت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور ان کی جلد وطن واپسی کے لیے دعاگو ہیں۔