World
برطانیہ: کینٹ میں پانی کی قلت کا بحران، ہزاروں شہری متاثر
برطانیہ کے علاقے کینٹ میں پانی کی فراہمی کا نظام شدید متاثر ہونے سے آٹھ ہزار سے زائد صارفین مشکلات کا شکار ہیں۔ ساؤتھ ایسٹ واٹر کی ٹیمیں بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں لیکن مسلسل کام کے باعث عملہ تھکن کا شکار ہو چکا ہے۔
برطانیہ کے علاقے کینٹ میں پانی کی فراہمی کا نظام گزشتہ روز شدید خرابی کا شکار ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں آٹھ ہزار سے زائد افراد پانی کی سہولت سے محروم ہو گئے ہیں۔ مقامی واٹر سپلائی کمپنی 'ساؤتھ ایسٹ واٹر' کے مطابق فنی خرابی کے بعد سے علاقے میں پانی کی ترسیل بری طرح متاثر ہوئی ہے اور ہزاروں شہری اپنی روزمرہ کی ضروریات کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ کمپنی کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں پانی کے متبادل انتظام کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جا رہا ہے۔
ساؤتھ ایسٹ واٹر کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا ہے کہ کمپنی کی تکنیکی ٹیمیں گزشتہ کئی گھنٹوں سے مسلسل فیلڈ میں موجود ہیں اور پائپ لائنوں میں آنے والی خرابیوں کو دور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ کام کی نوعیت اور مسلسل دباؤ کے باعث ان کی فیلڈ ٹیمیں اب شدید تھکن کا شکار ہو چکی ہیں۔ عملے کی محدود تعداد اور بحالی کے کاموں میں درپیش رکاوٹوں کی وجہ سے پانی کی مکمل بحالی میں توقع سے زیادہ وقت لگ رہا ہے جس پر مقامی رہائشیوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔
حکام نے متاثرہ علاقوں کے مکینوں سے صبر و تحمل کی اپیل کی ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ ترجیحی بنیادوں پر پانی کی سپلائی بحال کی جائے گی۔ فی الحال کمپنی کی جانب سے کچھ مقامات پر واٹر ٹینکرز بھیجے جا رہے ہیں تاکہ شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ مقامی انتظامیہ نے بھی صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پانی کا احتیاط سے استعمال کریں جب تک کہ سپلائی کا نظام مکمل طور پر معمول پر نہیں آ جاتا۔
برطانیہ میں موسم سرما کے دوران بنیادی سہولیات کی فراہمی میں اس طرح کے تعطل عوامی تشویش کا باعث بنتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کینٹ کا موجودہ واٹر انفراسٹرکچر پرانی تنصیبات پر مشتمل ہے جس کے باعث اکثر اوقات ایسی تکنیکی خرابیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کمپنی نے وعدہ کیا ہے کہ جیسے ہی پانی کی سپلائی مکمل طور پر بحال ہو جائے گی، اس خرابی کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے اور شہریوں کو بلا تعطل پانی کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔