World
ایران امریکہ کشیدگی: ٹرمپ کا سخت موقف اور آبنائے ہرمز کی صورتحال
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت میں توسیع سے انکار کر دیا ہے اور ایران کو ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب امریکی حکام نے خلیج فارس میں آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں اس وقت مزید شدت آ گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) میں توسیع دینے سے صاف انکار کر دیا۔ پیر کے روز اس معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد واشنگٹن نے تہران کے خلاف اپنا لہجہ مزید سخت کر دیا ہے۔ امریکی صدر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کو اب 'سفید جھنڈا' لہرا کر ہتھیار ڈال دینے چاہئیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وائٹ ہاؤس ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی پر کاربند ہے۔
اس سفارتی تعطل کے ساتھ ساتھ عسکری محاذ پر بھی صورتحال کشیدہ ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کی بحریہ نے خلیج فارس میں واقع تزویراتی اہمیت کے حامل گزرگاہ، آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ پینٹاگون کے ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز میں امریکی جنگی جہازوں کی نقل و حرکت میں اضافہ کیا گیا ہے تاکہ خطے میں امریکی مفادات اور عالمی تجارت کے لیے راستے کو محفوظ بنایا جا سکے۔ یہ اقدام خطے میں پہلے سے موجود شدید بے چینی کو مزید ہوا دینے کا سبب بن رہا ہے۔
دوسری جانب تہران نے تاحال اس پیش رفت پر کوئی باضابطہ جوابی کارروائی نہیں کی ہے تاہم ایرانی عسکری قیادت کا موقف رہا ہے کہ وہ اپنے سمندری حدود کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔ عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مفاہمت کی یادداشت کا خاتمہ خطے میں ایک نئی غیر یقینی صورتحال کو جنم دے سکتا ہے جس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی تیل کی منڈیوں پر بھی مرتب ہوں گے۔ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے تاکہ جنگ کے خطرات کو ٹالا جا سکے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا میں تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم سمندری راستہ ہے اور یہاں کشیدگی کا مطلب عالمی توانائی کے بحران کا خطرہ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا ایران کی جانب سے کوئی سخت ردعمل سامنے آتا ہے یا سفارتی ذرائع سے اس بحران کو حل کرنے کی کوئی کوشش کی جائے گی۔ موجودہ صورتحال میں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست تصادم کا خدشہ بدستور موجود ہے جس پر پوری دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔