World
جیرڈ کشنر کا غزہ کی تعمیر نو اور حماس کے بارے میں سخت بیان
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کا کہنا ہے کہ غزہ کی تعمیر نو تب تک ممکن نہیں جب تک حماس اپنے ہتھیار نہیں ڈال دیتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے اور امریکہ اس معاملے میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہیں کرے گا۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور مشرق وسطیٰ کے لیے سابق امریکی ایلچی جیرڈ کشنر نے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ غزہ کی پٹی کی تعمیر نو کا عمل اس وقت تک شروع نہیں کیا جا سکتا جب تک حماس مکمل طور پر غیر مسلح نہیں ہو جاتا۔ کشنر نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ صورتحال میں عالمی برادری کو حماس کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حماس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم کی عسکری موجودگی خطے میں پائیدار امن کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور جب تک اسے ختم نہیں کیا جاتا، تعمیر نو کے لیے کوئی بھی سرمایہ کاری ضائع جائے گی۔
اس کے ساتھ ہی جیرڈ کشنر نے اسرائیل کی جانب سے جاری فوجی کارروائیوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اسرائیل کو اپنے دفاع کے حق سے محروم نہیں کرے گا اور نہ ہی ان فوجی آپریشنز پر کوئی غیر ضروری پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ کشنر کے مطابق، اسرائیل کو اپنی بقا اور شہریوں کی حفاظت کے لیے حماس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا قانونی حق حاصل ہے۔ امریکی پالیسی کے حوالے سے انہوں نے اشارہ دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے سابقہ اصولوں کے تحت اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہونا امریکی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے۔
دوسری جانب، غزہ میں جاری شدید فضائی اور زمینی حملوں کے نتیجے میں بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے اور انسانی بحران اپنے عروج پر پہنچ گیا ہے۔ بین الاقوامی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں نے بارہا اس بات کی اپیل کی ہے کہ جنگ بندی کی جائے اور شہریوں کو امداد فراہم کی جائے، تاہم کشنر کا یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل کی حمایت کرنے والے حلقوں کا موقف اب بھی حماس کے مکمل خاتمے پر مرکوز ہے۔ اس بیان نے عالمی سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جنگ کے بعد کے مرحلے کے لیے بھی سخت شرائط رکھی جا رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ کشنر کا یہ موقف آنے والے وقت میں مشرق وسطیٰ کی پالیسیوں میں مزید تلخی کا باعث بن سکتا ہے۔ اگرچہ حماس پر دباؤ بڑھانے کے حوالے سے یہ بیان اسرائیل کے حق میں ہے، لیکن اس سے غزہ کے عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ فی الحال حماس کی جانب سے اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم خطے میں کشیدگی کا گراف بدستور بلند ہے اور کوئی بھی سفارتی حل تاحال دور کی بات نظر آتا ہے۔