Technology
فوٹو لوکیشن پرائیویسی اور مصنوعی ذہانت کا نیا خطرہ
آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی نئی ٹیکنالوجی اب تصاویر کے اندر موجود میٹا ڈیٹا کے بغیر بھی ان کے مقام کا درست اندازہ لگا سکتی ہے۔ یہ پیشرفت صارفین کی پرائیویسی کے حوالے سے ایک نئے خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے۔
عام طور پر جب ہم سوشل میڈیا پر کوئی تصویر شیئر کرتے ہیں تو ہماری سب سے بڑی فکر یہ ہوتی ہے کہ کیا اس تصویر کے ساتھ ہمارا مقام یا لوکیشن بھی شیئر تو نہیں ہو رہی۔ اس مقصد کے لیے لوگ اکثر تصاویر سے 'ایگزف' (EXIF) ڈیٹا ہٹا دیتے ہیں یا لوکیشن کی سیٹنگز کو بند کر دیتے ہیں۔ لیکن اب ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک ایسی پیشرفت ہوئی ہے جس نے اس روایتی حفاظتی طریقہ کار کو چیلنج کر دیا ہے۔ حالیہ تحقیق اور نئے سافٹ ویئر ٹولز سے یہ ثابت ہوا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اب تصویر کے اندر موجود کسی بھی پوشیدہ ڈیٹا کی مدد کے بغیر بھی یہ بتا سکتی ہے کہ یہ تصویر دنیا کے کس کونے میں کھینچی گئی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی تصویر کے پس منظر میں موجود مناظر، پودوں، عمارتوں کے ڈیزائن، روشنی کے زاویے اور دیگر طبعی علامات کا تجزیہ کرکے ایک درست لوکیشن کا تخمینہ لگاتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو دنیا بھر کے لاکھوں مقامات کے ڈیٹا بیس پر تربیت دی گئی ہے، جس کی وجہ سے یہ کسی بھی نئی تصویر کو دیکھتے ہی اس کے جغرافیائی محل وقوع کا سراغ لگا لیتے ہیں۔ اس جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے پرائیویسی کے ماہرین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صارفین کی جانب سے سمجھی جانے والی 'ڈیجیٹل سیکیورٹی' اب ایک وہم بنتی جا رہی ہے۔ اگر کوئی فرد اپنی شناخت چھپانے کے لیے ایگزف ڈیٹا ہٹا بھی دے، تب بھی اے آئی کے الگورتھم تصویر کے اندر موجود چھوٹے چھوٹے سراغوں سے اس کی نقل و حرکت اور رہائش گاہ تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس صورتحال نے صارفین کے لیے ایک نئی مشکل کھڑی کر دی ہے، کیونکہ اب صرف ٹیکنالوجی سیٹنگز بدلنا ہی کافی نہیں رہا، بلکہ تصاویر کھینچتے وقت بھی احتیاط برتنی ہوگی۔ ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ مستقبل میں ایسی تصاویر اپ لوڈ کرنے سے گریز کیا جائے جن میں کوئی خاص عمارت، منفرد قدرتی منظر یا ایسا پس منظر موجود ہو جو آپ کی لوکیشن ظاہر کرنے میں مددگار ثابت ہو۔ اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال سائبر کرائم اور ہراسانی جیسے سنگین مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں صارفین کی پرائیویسی کے تحفظ کے لیے ایسے فلٹرز متعارف کرائیں جو تصاویر میں موجود حساس معلومات کو خودکار طریقے سے دھندلا (Blur) کر سکیں یا مصنوعی ذہانت کے اس ٹریکنگ عمل کو ناکارہ بنا سکیں۔