Business
پاکستان میں تیل و گیس کی تلاش: حکومت کی نئی سرمایہ کاری پالیسی
وفاقی حکومت نے گہرے سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے نئے منصوبوں کے لیے منافع کی تقسیم کا نیا فارمولا متعارف کروا دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنا اور ملکی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔
وفاقی حکومت نے ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے اور تیل و گیس کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت گہرے سمندر (ڈیپ آف شور) میں تیل اور گیس کی تلاش کے نئے منصوبوں کے لیے 70:30 کے منافع کی تقسیم کا فارمولا متعارف کرایا گیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد عالمی اور مقامی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے انرجی سیکٹر کی طرف راغب کرنا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ وسائل کو بروئے کار لایا جا سکے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ توانائی کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا ہے، جس سے نہ صرف ملکی پیداوار میں اضافہ متوقع ہے بلکہ درآمدی بل میں بھی کمی لانے میں مدد ملے گی۔
نئے فارمولے کے مطابق سرمایہ کاروں کو 70 فیصد منافع دیا جائے گا جبکہ حکومت کا حصہ 30 فیصد ہوگا۔ یہ پرکشش شرائط خاص طور پر ان کمپنیوں کے لیے تیار کی گئی ہیں جو پیچیدہ اور مہنگے سمندری منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے سے گریزاں تھیں۔ ماہرین معاشیات کا خیال ہے کہ اس سے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کی نئی لہر آئے گی اور توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کی طرف پیش رفت ہوگی۔ حکومت کی جانب سے اس پیشکش کا مقصد طویل عرصے سے تعطل کا شکار منصوبوں کو فعال کرنا اور نئے بلاکس کے لیے ٹینڈرز کو کامیاب بنانا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کے سمندری حدود میں توانائی کے وسیع ذخائر موجود ہیں جنہیں ابھی تک مکمل طور پر دریافت نہیں کیا جا سکا۔ اس سے قبل سرمایہ کاری کے لیے سخت شرائط اور دیگر رکاوٹیں سرمایہ کاروں کی راہ میں حائل تھیں، جنہیں اب دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وفاقی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ان منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا اور سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ یہ پالیسی نہ صرف توانائی کے شعبے کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے بلکہ اس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے اور ملکی معیشت کو استحکام ملنے کی بھی توقع ہے۔ آنے والے مہینوں میں اس پیشکش کے نتائج واضح ہونا شروع ہو جائیں گے اور حکومت اس سلسلے میں بین الاقوامی کمپنیوں سے رابطے بھی کر رہی ہے۔