World
پولیس اہلکاروں میں ذہنی صدمہ اور نفسیاتی مسائل، برطانوی وزارت داخلہ کا امدادی پیکیج بڑھانے کا اعلان
برطانیہ کی وزارت داخلہ نے ڈیوٹی کے دوران شدید نوعیت کے صدمات کا سامنا کرنے والے پولیس افسران کے لیے امدادی اقدامات کو مزید وسیع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سابق پولیس اہلکاروں نے اپنے تلخ تجربات شیئر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کس طرح پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے دوران پیش آنے والے خوفناک واقعات نے ان کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
برطانیہ میں پولیس سروس کے دوران انتہائی پرتشدد اور خوفناک واقعات کا سامنا کرنے والے سابق پولیس اہلکاروں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے سیاہ پہلوؤں سے پردہ اٹھایا ہے۔ ان سابق افسران کا کہنا ہے کہ ڈیوٹی کے دوران پیش آنے والے ہولناک مناظر، جرائم کی تفتیش اور زندگی اور موت کی کشمکش نے ان کی ذہنی صحت کو مستقل طور پر متاثر کیا۔ ان اہلکاروں کو روزمرہ کی زندگی میں نائٹ ٹیررز یعنی خوفناک خوابوں، گزرے ہوئے وقت کے فلیش بیکس اور شدید قسم کے پینک اٹیکس جیسی سنگین نفسیاتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس نے ان کی ذاتی اور خاندانی زندگی کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال نے ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اندر ذہنی صحت کے مسائل اور ان کے حل پر ایک بار پھر سنجیدہ بحث چھوٹی ہے۔ دوسری جانب، اس بڑھتے ہوئے بحران کا نوٹس لیتے ہوئے برطانوی وزارت داخلہ نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ پولیس افسران کو فراہم کی جانے والی معاونت اور سپورٹ کو نمایاں طور پر وسعت دے گی۔ اس نئے اقدامات کا مقصد ان تمام حاضر سروس اور سابق اہلکاروں کو بروقت نفسیاتی اور طبی امداد فراہم کرنا ہے جو فرائض کی انجام دہی کے دوران کسی بھی قسم کے ذہنی صدمے یا ٹروما کا شکار ہوئے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ پولیس افسران کو اس قسم کے دباؤ سے نکالنے کے لیے طویل المدتی اور مربوط کونسلنگ پروگرامز کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ معاشرے میں ایک پُرسکون اور نارمل زندگی گزار سکیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ وزارت داخلہ کا یہ نیا قدم متاثرہ اہلکاروں کے لیے ایک بڑی راحت کا باعث بنے گا اور انہیں اس مشکل ترین ذہنی کیفیت سے باہر نکالنے میں مددگار ثابت ہوگا۔