LIVE
Loading Breaking News...

الیکٹرک گاڑیوں کی سٹار ریٹنگ: انڈسٹری اور حکومت میں ٹھن گئی

News Image
بھارتی حکومت کی جانب سے الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں کے لیے سٹار ریٹنگ متعارف کرانے کے منصوبے پر صنعت کاروں نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انڈسٹری ایسوسی ایشنز کا کہنا ہے کہ یہ ضوابط لاگت میں اضافے اور پیداواری عمل میں پیچیدگیوں کا سبب بن سکتے ہیں۔
بھارت میں الیکٹرک دو پہیہ گاڑیوں (e2Ws) کے لیے سٹار ریٹنگ سسٹم متعارف کرانے کے حکومتی منصوبے نے آٹوموبائل انڈسٹری کے اندر شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ سوسائٹی آف انڈین آٹوموبائل مینوفیکچررز (SIAM)، جس میں ہیرو موٹو کارپ، بجاج آٹو، ایتھر انرجی اور ٹی وی ایس موٹر جیسی بڑی کمپنیاں شامل ہیں، نے اس تجویز پر اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کیا ہے۔ انڈسٹری کے ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ نیا ریگولیٹری فریم ورک نہ صرف پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ کرے گا بلکہ مارکیٹ میں پہلے سے موجود کمپنیوں کے لیے کام کرنے کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ حکومت کا یہ اقدام بظاہر صارفین کو الیکٹرک گاڑیوں کی کارکردگی اور توانائی کی بچت کے حوالے سے شفافیت فراہم کرنے کے لیے ہے، تاہم مینوفیکچررز کا کہنا ہے کہ موجودہ مارکیٹ ابھی تک ارتقائی مراحل میں ہے اور اس طرح کے سخت معیارات لاگو کرنے سے چھوٹی کمپنیوں کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ انڈسٹری کے اہم اسٹیک ہولڈرز نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس پالیسی کو حتمی شکل دینے سے پہلے صنعت کاروں کے ساتھ مزید مشاورت کرے۔ ان کے مطابق، سٹار ریٹنگ سسٹم کو گاڑی کی رینج اور بیٹری کی پائیداری کے بجائے دیگر تکنیکی پہلوؤں پر مرکوز ہونا چاہیے جو صارفین کے لیے زیادہ مددگار ثابت ہوں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کشمکش کے پیچھے دراصل حکومت کی الیکٹرک وہیکل پالیسی کو مزید مستحکم کرنے اور معیار کو عالمی سطح پر لانے کی خواہش ہے۔ تاہم، انڈسٹری کا مؤقف ہے کہ زبردستی کے ضوابط سے انوویشن کی رفتار کم ہو سکتی ہے۔ کمپنیوں کو خدشہ ہے کہ اگر ان کے ماڈلز کو کم سٹار ریٹنگ دی گئی تو یہ مارکیٹ میں ان کے برانڈ امیج کو متاثر کر سکتا ہے، حالانکہ وہ گاڑیاں اپنی قیمت کے لحاظ سے بہترین کارکردگی فراہم کر رہی ہیں۔ آنے والے ہفتوں میں حکومت اور صنعت کاروں کے درمیان مزید مذاکرات متوقع ہیں جس میں سٹار ریٹنگ کے معیار کو نرم کرنے یا اسے مرحلہ وار لاگو کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اس تنازعہ کا حل نکالنا بہت ضروری ہے تاکہ بھارت میں گرین ٹرانسپورٹیشن کے مشن کو نقصان نہ پہنچے اور صارفین کے اعتماد کو بھی برقرار رکھا جا سکے۔