LIVE
Loading Breaking News...

نائیجیریا کی عسکری خود انحصاری: مقامی دفاعی صنعت کا قیام

News Image
نائیجیریا نے اپنی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مقامی سطح پر عسکری ہارڈ ویئر اور جدید اینٹی ڈرون سسٹم تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد غیر ملکی درآمدات پر انحصار کم کرنا اور ملکی صنعت کو فروغ دینا ہے۔
نائیجیریا کی حکومت نے اپنے دفاعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور غیر ملکی انحصار کو ختم کرنے کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ حال ہی میں جاری کردہ حکومتی اعلامیے کے مطابق، نائیجیریا اب مقامی سطح پر عسکری ہارڈ ویئر اور جدید ترین اینٹی ڈرون سسٹمز کی تیاری پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت ملک کی دفاعی صنعت میں ایک نئے دور کا آغاز سمجھی جا رہی ہے، جس کا بنیادی مقصد نہ صرف قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہے بلکہ ملکی وسائل کو بروئے کار لا کر بیرونی درآمدات پر خرچ ہونے والے کثیر زرمبادلہ کی بچت کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت نائیجیریا کی دفاعی کمپنیاں مقامی انجینئرز اور ماہرین کی مدد سے جدید دفاعی آلات کی تیاری شروع کریں گی۔ اینٹی ڈرون سسٹم کی تیاری پر خاص توجہ دی جا رہی ہے کیونکہ موجودہ دور میں ڈرون ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے یہ ایک اہم ضرورت بن چکی ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ مقامی پیداوار سے نہ صرف سیکیورٹی فورسز کو جدید آلات کی بروقت فراہمی ممکن ہوگی بلکہ ملک میں نئی ملازمتوں کے مواقع بھی پیدا ہوں گے، جس سے معیشت پر مجموعی طور پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ دفاعی ماہرین کا اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہنا ہے کہ نائیجیریا کی یہ حکمت عملی اسے خطے میں ایک مضبوط فوجی طاقت کے طور پر ابھارنے میں مدد دے گی۔ ماضی میں نائیجیریا اپنی دفاعی ضروریات کے لیے زیادہ تر دیگر ممالک پر انحصار کرتا رہا ہے، جس کی وجہ سے کئی بار تاخیر اور بجٹ کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ اب مقامی پیداوار شروع ہونے سے اسٹریٹجک خود مختاری میں اضافہ ہوگا اور دفاعی بجٹ کا ایک بڑا حصہ ملکی صنعت میں گردش کرے گا۔ حکومت نائیجیریا نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ نجی شعبے کے ساتھ مل کر دفاعی ٹیکنالوجی کی تحقیق اور ترقی (R&D) میں مزید سرمایہ کاری کرے گی۔ اس اقدام کے تحت ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی ورک فورس کی تربیت کے لیے بھی خصوصی پروگرام شروع کیے جائیں گے۔ آنے والے برسوں میں، یہ توقع کی جا رہی ہے کہ نائیجیریا نہ صرف اپنی دفاعی ضروریات پوری کرے گا بلکہ خطے کے دیگر ممالک کو بھی دفاعی آلات برآمد کرنے کی پوزیشن میں آ جائے گا، جو کہ ملک کی صنعتی ترقی کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔