LIVE
Loading Breaking News...

اوپن اے آئی اور اے ڈبلیو ایس کا ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے نیا اقدام

News Image
اوپن اے آئی اور ایمیزون ویب سروسز نے ایک نئی تکنیکی گائیڈ متعارف کرائی ہے جو آرٹیفیشل انٹیلیجنس ایجنٹس کے ذریعے خودکار ادائیگیوں کے نظام کو آسان بنائے گی۔ یہ پیش رفت ڈیجیٹل کامرس کے مستقبل کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جس سے آن لائن لین دین میں مزید شفافیت اور تیزی آئے گی۔
مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے اوپن اے آئی (OpenAI) اور ایمیزون ویب سروسز (AWS) نے مشترکہ طور پر ایک تکنیکی گائیڈ جاری کی ہے جس کا مقصد 'بیس' (Base) نیٹ ورک پر ایکس 402 (x402) پیمنٹ فلو کو آسان بنانا ہے۔ یہ نیا نظام مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس کو خود مختار طریقے سے ادائیگیوں کا انتظام کرنے کی اجازت دیتا ہے، جو مستقبل میں ڈیجیٹل تجارت کے طریقہ کار کو مکمل طور پر تبدیل کر سکتا ہے۔ اس پیش رفت سے آن لائن خرید و فروخت کے عمل میں انسانی مداخلت کم سے کم ہو جائے گی اور ایجنٹس براہِ راست لین دین کر سکیں گے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ خودکار ادائیگیوں کا یہ نظام تجارت کی رفتار میں کئی گنا اضافہ کر سکتا ہے۔ تاہم، اس ٹیکنالوجی کے وسیع پیمانے پر نفاذ کے حوالے سے کچھ تحفظات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ خودکار ادائیگیوں سے صارفین کو سہولت ملے گی، لیکن اس سے مرکزیت (Centralization) کے خطرات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگر چند بڑی کمپنیاں ہی اس پورے نظام پر قابض ہو گئیں تو مارکیٹ میں تنوع کم ہو سکتا ہے اور چھوٹی کمپنیوں کے لیے مسابقت برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ اس لیے اوپن اے آئی اور اے ڈبلیو ایس کی جانب سے یہ گائیڈ جاری کرنا ایک اہم اقدام ہے تاکہ ڈویلپرز کو ایک محفوظ اور شفاف فریم ورک فراہم کیا جا سکے۔ اس گائیڈ میں ان تکنیکی پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے جن کے ذریعے اے آئی ایجنٹس محفوظ طریقے سے بیس نیٹ ورک پر فنڈز کی منتقلی اور ادائیگی کے تصدیقی عمل کو مکمل کر سکتے ہیں۔ یہ اقدام نہ صرف بلاک چین ٹیکنالوجی کو عام صارفین کے لیے زیادہ قابل رسائی بنائے گا بلکہ کاروباری اداروں کو بھی نئے ڈیجیٹل دور میں داخل ہونے کے لیے تیار کرے گا۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ ٹیکنالوجی مالیاتی منڈیوں میں کتنی تیزی سے جگہ بناتی ہے اور اسے کس طرح ریگولیٹری چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مجموعی طور پر، یہ شراکت داری اے آئی اور فن ٹیک انڈسٹری کے سنگم پر ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔