LIVE
Loading Breaking News...

لیتھیم میٹل بیٹری ٹیکنالوجی میں بڑی سائنسی پیش رفت

News Image
چائنیز یونیورسٹی کے محققین نے الیکٹرو سٹیٹک ریگولیشن کے ذریعے لیتھیم میٹل بیٹریوں کی توانائی کو بڑھانے کا طریقہ دریافت کر لیا ہے۔ یہ تکنیک طویل دورانیے تک چلنے والی ہائی انرجی بیٹریوں کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔
جیجیانگ یونیورسٹی کے اسکول آف میٹریلز سائنس اینڈ انجینئرنگ کے محققین نے بیٹری ٹیکنالوجی کے شعبے میں ایک اہم سائنسی کامیابی حاصل کی ہے۔ حالیہ تحقیق میں، ماہرین نے الیکٹرو سٹیٹک ریگولیشن کے ذریعے سالویشن کیمسٹری کو منظم کرنے کا ایک جدید طریقہ وضع کیا ہے، جس کے ذریعے لیتھیم میٹل بیٹریوں کی کارکردگی اور انرجی ڈینسٹی کو ایمپیئر-آر (Ampere-hour) کے پیمانے تک بڑھانا ممکن ہو گیا ہے۔ یہ پیش رفت آنے والے وقتوں میں برقی گاڑیوں اور پورٹیبل الیکٹرانکس کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ محققین کے مطابق، لیتھیم میٹل بیٹریاں روایتی لیتھیم آئن بیٹریوں کے مقابلے میں بہت زیادہ توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، تاہم ان کے استحکام اور عمر کے حوالے سے درپیش چیلنجز بڑی رکاوٹ تھے۔ اس نئی تحقیق میں الیکٹرو سٹیٹک ریگولیشن کے عمل کو استعمال کرتے ہوئے ان کیمیائی تعاملات کو قابو کیا گیا ہے جو بیٹری کی کارکردگی میں تنزلی کا باعث بنتے ہیں۔ اس تکنیکی اصلاح کے بعد بیٹریوں کی پائیداری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس سے طویل عرصے تک چلنے والی بیٹریوں کی تیاری کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ اس تحقیق کا اہم پہلو اس کی سالویشن کیمسٹری کی تنظیم نو ہے، جس سے الیکٹروڈز کے درمیان توانائی کا بہاؤ مزید موثر ہو جاتا ہے۔ اس تکنیک کی بدولت بیٹری کے اندرونی کیمیائی نظام میں توازن برقرار رہتا ہے، جو ہائی انرجی ڈینسٹی حاصل کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ جیجیانگ یونیورسٹی کے ماہرین کی یہ ٹیم اب اس ٹیکنالوجی کو کمرشل پیمانے پر لانے کے لیے مزید تجربات کر رہی ہے، تاکہ اسے عام استعمال کی برقی مصنوعات میں آسانی سے ضم کیا جا سکے۔ مستقبل میں، یہ دریافت نہ صرف بیٹریوں کی چارجنگ کے دورانیے کو کم کرے گی بلکہ ان کی مجموعی لائف سائیکل میں بھی اضافہ کرے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ سائنسی اصلاحات الیکٹرک گاڑیوں کی رینج بڑھانے اور سمارٹ فونز سمیت دیگر جدید آلات کو زیادہ دیرپا طاقت فراہم کرنے میں ایک سنگ میل ثابت ہوں گی۔ تحقیق کے نتائج بین الاقوامی سائنسی جریدے میں شائع کیے گئے ہیں، جس سے دنیا بھر کے ٹیکنالوجی ماہرین میں نئی امید پیدا ہوئی ہے کہ ہم توانائی کے ذخیرہ کے لیے زیادہ پائیدار اور طاقتور حل کے قریب پہنچ چکے ہیں۔