LIVE
Loading Breaking News...

ملیریا کے علاج میں مشکلات: یوگنڈا میں نئی طبی تحقیق

News Image
یوگنڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں پلازموڈیم فیسی پیرم پی ایکس ون میں ایسی تبدیلیوں کا پتا چلا ہے جو ملیریا کی ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا کر رہی ہیں۔ یہ تحقیق عالمی ادارہ صحت اور دیگر طبی ماہرین کے لیے تشویش کا باعث ہے کیونکہ اس سے علاج کی کامیابی کے امکانات متاثر ہو سکتے ہیں۔
یوگنڈا میں کی گئی ایک حالیہ طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ملیریا پھیلانے والے پیراسائٹ 'پلازموڈیم فیسی پیرم' میں ایسی جینیاتی تبدیلیاں (polymorphisms) رونما ہو رہی ہیں جو بیماری کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ادویات کی اثرپذیری کو کم کر رہی ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ پی ایکس ون (PX1) نامی جین میں یہ تبدیلیاں خاص طور پر تشویشناک ہیں کیونکہ یہ پیراسائٹ کو ادویات کے خلاف قوتِ مدافعت فراہم کر رہی ہیں، جس سے مریضوں کے علاج میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس تحقیق کے لیے ماہرین نے یوگنڈا کے مختلف ہیلتھ سینٹرز سے حاصل کردہ کلینیکل نمونوں کا تفصیلی جینیاتی تجزیہ کیا ہے۔ مطالعے کے دوران یہ دیکھا گیا کہ ملیریا کے خلاف روایتی طور پر استعمال ہونے والی اینٹی ملیریا ادویات اب پہلے کی طرح مؤثر ثابت نہیں ہو رہیں۔ سائنسدانوں نے 'ہول جینوم سیکوینسنگ' (WGS) کا استعمال کرتے ہوئے ان تبدیلیوں کی نشاندہی کی ہے جو براہِ راست ادویات کی حساسیت میں کمی کا باعث بن رہی ہیں۔ یہ پیش رفت افریقہ کے اس خطے میں عوامی صحت کے لیے ایک بڑے چیلنج کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ملیریا کا علاج مزید پیچیدہ ہو جائے گا، جس سے اموات کی شرح میں اضافے کا خدشہ ہے۔ تحقیق کے مطابق، یہ پیراسائٹ نہ صرف تیزی سے اپنی ساخت بدل رہا ہے بلکہ یہ اپنے آپ کو ادویات کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے نئے راستے تلاش کر رہا ہے۔ یہ صورتحال طبی نظام پر مزید بوجھ ڈال سکتی ہے کیونکہ اب نئے اور زیادہ طاقتور علاج یا ادویات کے امتزاج کی تلاش ناگزیر ہو گئی ہے۔ فی الحال، یوگنڈا کا محکمہ صحت اور بین الاقوامی طبی ادارے ان نتائج کی روشنی میں حکمت عملی مرتب کر رہے ہیں۔ اس تحقیق کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ یہ بیماری کے پھیلاؤ اور اس کے جینیاتی ارتقاء کو سمجھنے میں مدد فراہم کرے گی۔ عالمی ادارہ صحت نے بھی اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا کرنے والے ان پیراسائٹس کے خلاف ایک مربوط عالمی ردعمل کی ضرورت ہے۔