Education
امریکی یونیورسٹیوں میں SAT امتحانات کی واپسی: طلبہ اور ماہرین کا ملا جلا ردعمل
امریکہ اور دنیا بھر کی متعدد معتبر یونیورسٹیوں نے داخلے کے عمل میں ایس اے ٹی (SAT) اور اے سی ٹی (ACT) جیسے معیاری امتحانات کی شرط دوبارہ نافذ کرنا شروع کر دی ہے۔ اس فیصلے پر تعلیمی ماہرین اور طالب علموں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے جہاں کچھ اسے معیار کی بحالی جبکہ دیگر اسے مساوات کے لیے نقصان دہ قرار دے رہے ہیں۔
عالمی سطح پر خصوصاً امریکہ کی نامور اور سرفہرست یونیورسٹیوں اور کالجوں نے ایک بار پھر داخلے کی شرائط میں معیاری امتحانات یعنی ایس اے ٹی (SAT) اور اے سی ٹی (ACT) کے نتائج کو شامل کرنا شروع کر دیا ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران، خصوصاً کورونا وائرس کی عالمی وبا کے بعد سے، اکثر تعلیمی اداروں نے ٹیسٹ بلائنڈ یا ٹیسٹ آپشنل پالیسی اختیار کر رکھی تھی، جس کے تحت طلبہ کو یہ امتحانات دیے بغیر بھی داخلہ مل سکتا تھا۔ تاہم اب تعلیمی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان ٹیسٹوں کی بحالی سے طلبہ کی قابلیت اور تعلیمی صلاحیت کا درست اندازہ لگانے میں مدد ملے گی۔ اس اچانک تبدیلی کے باعث دنیا بھر کے طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی ماہرین کے درمیان ایک نیا بحث و مباحثہ چھڑ گیا ہے اور اس پر انتہائی ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ معیاری امتحانات کی بحالی کا حامی طبقہ یہ دلیل دیتا ہے کہ یہ ٹیسٹ مختلف اسکولوں اور تعلیمی پس منظر سے تعلق رکھنے والے طلبہ کی صلاحیتوں کو یکساں پیمانے پر پرکھنے کا واحد غیر جانبدارانہ ذریعہ ہیں۔ یونیورسٹیوں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صرف ہائی اسکول کے گریڈز اکثر طلبہ کی حقیقی استعداد کی عکاسی نہیں کرتے کیونکہ مختلف اسکولوں میں نمبر دینے کے معیارات مختلف ہوتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ٹیسٹ اسکورز کی مدد سے ان طلبہ کی نشاندہی بھی کی جا سکتی ہے جو روایتی تعلیمی پس منظر نہ رکھنے کے باوجود اعلیٰ تعلیمی صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں۔ دوسری جانب اس فیصلے پر شدید تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ معیاری امتحانات غریب اور کم وسائل رکھنے والے اقلیتی طبقات کے خلاف تعصب کا باعث بنتے ہیں۔ امیر خاندانوں کے بچے مہنگی کوچنگ اور ٹیسٹ تیاری کی سہولیات حاصل کر لیتے ہیں جس سے ان کا اسکور بہتر ہو جاتا ہے، جبکہ معاشی طور پر مستحق طلبہ ان سہولیات سے محروم رہتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق اس پالیسی کی واپسی سے اعلیٰ تعلیم تک تمام طبقات کی مساوی رسائی کے اقدامات کو شدید دھچکا پہنچے گا۔ فی الحال یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا دیگر تمام چھوٹے اور درمیانے درجے کے کالج بھی ان بڑی یونیورسٹیوں کی پیروی کرتے ہیں یا وہ ٹیسٹ آپشنل پالیسی پر ہی قائم رہیں گے۔ اس فیصلے سے آئندہ سالوں میں داخلے کے خواہش مند لاکھوں طلبہ کی تیاری اور حکمت عملی میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔