World
غزہ امن منصوبہ: 8 ممالک کا اسرائیل کے انکار پر احتجاج
آٹھ اہم ممالک نے غزہ میں امن کے لیے پیش کردہ روڈ میپ کو اسرائیل کی جانب سے مسترد کیے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد خطے میں تناؤ میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
غزہ میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور مستقل امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی سطح پر تیار کردہ روڈ میپ کو اسرائیل کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد دنیا کے آٹھ ممالک نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان ممالک کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا یہ رویہ خطے میں جاری انسانی بحران کو مزید گہرا کر رہا ہے اور دیرپا امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ سعودی عرب سمیت کئی اہم عرب اور اسلامی ممالک نے کھل کر اسرائیل کی اس پالیسی کی مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ عالمی برادری کو غزہ میں فوری جنگ بندی کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنا چاہیے۔
دوسری جانب، اسرائیلی حکومت نے روڈ میپ کو مسترد کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلا سے قبل حماس کا تخفیفِ اسلحہ ناگزیر ہے۔ اس معاملے پر امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اتفاق پایا جاتا ہے کہ حماس کو غیر مسلح کیے بغیر کوئی بھی امن منصوبہ حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتا۔ اس صورتحال میں، 'بورڈ آف پیس' کی جانب سے ایک نئے تخفیفِ اسلحہ فریم ورک پر غور کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد فریقین کو کسی درمیانی راستے پر لانا ہے، تاہم تاحال کامیابی کے امکانات معدوم نظر آتے ہیں۔
خطے میں جاری اس سفارتی ہلچل کے دوران جیرڈ کشنر اور ٹونی بلیئر نے بھی یروشلم میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کا مقصد ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ غزہ پلان کو آگے بڑھانا اور جاری تعطل کو ختم کرنے کے لیے نئے راستے تلاش کرنا ہے۔ تاہم، تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ زمینی حقائق اور فریقین کے متضاد مطالبات کے پیش نظر کسی بھی امن معاہدے تک پہنچنا ایک انتہائی پیچیدہ عمل ہے۔ آٹھ ممالک کی جانب سے سامنے آنے والی مذمت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسرائیل پر سفارتی دباؤ بڑھ رہا ہے، جبکہ حماس کی غیر مسلح ہونے کی شرط پر ہونے والی بحث نے صورتحال کو مزید الجھا دیا ہے۔
مستقبل قریب میں غزہ کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ آیا اسرائیل بین الاقوامی برادری کے دباؤ کو قبول کرتا ہے یا پھر اپنے پرانے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے فوجی آپریشنز کو جاری رکھتا ہے۔ فی الحال عالمی برادری کی جانب سے ایک ایسے میکانزم کی تلاش جاری ہے جو نہ صرف غزہ کے شہریوں کو تحفظ فراہم کر سکے بلکہ طویل مدتی سکیورٹی خدشات کو بھی دور کر سکے۔ اس تمام تر صورتحال میں عام شہریوں کی زندگیوں کا تحفظ ایک چیلنج بنا ہوا ہے، جس پر دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔