LIVE
Loading Breaking News...

عالمی منڈی میں تیل مہنگا: آبنائے ہرمز تنازع کے اثرات

News Image
آبنائے ہرمز کو کھولنے کے حوالے سے جاری امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں۔ ایران کی جانب سے عبوری معاہدے کی توسیع کو مسترد کرنے اور تنازع بڑھنے کی دھمکیوں نے عالمی توانائی سپلائی کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے حوالے سے امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں تعطل ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق برینٹ آئل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کے ستمبر کے معاہدے بھی 2.6 فیصد اضافے کے ساتھ 84.50 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال عالمی توانائی کی فراہمی کے حوالے سے سرمایہ کاروں میں شدید تشویش پیدا کر رہی ہے۔ اس بحران کی بنیادی وجہ ایران کا وہ فیصلہ ہے جس میں اس نے عبوری معاہدے کی توسیع کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ایران کی جانب سے تنازع کو مزید بڑھانے کی دھمکیوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے براہ راست اثرات آبنائے ہرمز سے گزرنے والی آئل ٹینکرز کی نقل و حمل پر پڑ رہے ہیں۔ ٹینکروں کی آمدورفت اب انتہائی سست روی کا شکار ہے، جس سے عالمی منڈی میں رسد متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال جلد معمول پر نہ آئی تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا میں تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم ترین سمندری راستہ ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کے لیے دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی تعطل نے عالمی توانائی مارکیٹ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ ایران کی جانب سے سخت گیر موقف اختیار کرنے اور مذاکرات میں کسی پیش رفت کا نہ ہونا، عالمی سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث ہے، کیونکہ اس سے عالمی سپلائی چین کے مزید متاثر ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ مستقبل کے حوالے سے مارکیٹ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان جاری یہ کشمکش جاری رہی، تو تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی طلب و رسد کا توازن بری طرح بگڑ رہا ہے اور قیمتوں میں یہ تیزی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مارکیٹ کسی بھی ممکنہ جنگی کیفیت یا سپلائی کے مکمل بند ہونے کے خطرے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں سفارتی سطح پر ہونے والی پیش رفت ہی طے کرے گی کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کس جانب گامزن ہوں گی۔