Sports
فیفا کا متنازع منصوبہ: یوئیفا کی رکن فیڈریشنز کا ہنگامی اجلاس
فیفا کے اہم مقابلوں میں حصص فروخت کرنے کے متنازعہ منصوبے پر تبادلہ خیال کے لیے یوئیفا کی 55 رکن فیڈریشنز نے اس ہفتے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ اس اجلاس میں ورلڈ کپ کے ممکنہ بائیکاٹ سمیت دیگر سخت اقدامات پر بھی غور کیے جانے کا امکان ہے۔
عالمی فٹ بال کے حلقوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی ہے جب فیفا کی جانب سے اپنے بڑے مقابلوں میں مالیاتی حصص فروخت کرنے کے متنازعہ منصوبے سامنے آئے ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے اور آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے یورپ کی فٹ بال گورننگ باڈی یوئیفا (Uefa) نے اپنی تمام 55 رکن فیڈریشنز کا ایک ہنگامی اجلاس اس ہفتے طلب کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس اجلاس کا بنیادی مقصد فیفا کے ان تجارتی فیصلوں کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہے جو مبینہ طور پر روایتی فٹ بال کے ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اجلاس کے دوران اس بات کا بھی قوی امكان ہے کہ ورلڈ کپ کے ممکنہ بائیکاٹ یا دیگر سخت احتجاجی اقدامات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ یورپی فیڈریشنز کا ماننا ہے کہ فیفا کی جانب سے بڑے پیمانے پر حصص کی فروخت سے کھیلوں کی شفافیت اور خودمختاری متاثر ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ فیفا دنیا بھر میں فٹ بال کے فروغ کے لیے مختلف تجارتی ماڈلز پر کام کر رہا ہے، تاہم اس کے کئی منصوبے ماضی میں بھی تنازعات کا شکار رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس ہنگامی اجلاس کے بعد یوئیفا اور فیفا کے درمیان تعلقات کس سمت جاتے ہیں اور آیا یورپی ممالک فیفا کے خلاف کوئی باضابطہ محاذ آرائی کا اعلان کرتے ہیں یا نہیں۔ دنیا بھر کے فٹ بال شائقین اس اہم بیٹھک کے نتائج پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جو آنے والے وقتوں میں عالمی فٹ بال کی سیاست کا رخ موڑ سکتی ہے۔