LIVE
Loading Breaking News...

روس کی برطانیہ کو یوکرین کی ڈرون امداد پر تنبیہ

News Image
روس نے برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ یوکرین کو ڈرونز کی فراہمی کشیدگی میں اضافے کا باعث بنے گی۔ برطانوی وزارت دفاع نے جواب میں کہا ہے کہ برطانیہ یوکرین کے ساتھ ہر قدم پر کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے۔
ماسکو نے ایک بار پھر مغربی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ یوکرین کو جدید دفاعی سازوسامان اور ڈرونز کی فراہمی بند کریں، بصورت دیگر اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ روسی حکام کی جانب سے حال ہی میں برطانیہ کو مخاطب کرتے ہوئے یہ تنبیہ جاری کی گئی ہے کہ یوکرین کو ڈرونز کی سپلائی خطے میں جاری تنازع کو مزید ہوا دینے کے مترادف ہے۔ کریملن کا موقف ہے کہ نیٹو ممالک، خاص طور پر برطانیہ، براہ راست اس جنگ میں فریق بنتے جا رہے ہیں جو کہ عالمی امن کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ اس صورتحال کے جواب میں برطانوی وزارت دفاع کے ایک ترجمان نے موقف اختیار کیا ہے کہ برطانیہ یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔ برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ برطانیہ یوکرین کے ساتھ ہر محاذ پر کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے اور وہ کیف کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری امداد فراہم کرنا جاری رکھے گا۔ ترجمان کے مطابق، یوکرین کی جانب سے ڈرونز کا استعمال اپنے دفاع کے لیے کیا جا رہا ہے، جس میں عالمی قوانین کی کوئی خلاف ورزی نہیں پائی جاتی۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یوکرین کو ڈرونز کی فراہمی اور اس پر روسی ردعمل نے سفارتی تعلقات کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔ اس سے قبل بھی روس متعدد بار خبردار کر چکا ہے کہ مغربی ساختہ ہتھیاروں کا یوکرین میں استعمال تنازع کو کسی بھی وقت ایک خطرناک موڑ پر لے جا سکتا ہے۔ عالمی برادری اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے کیونکہ روس کی جانب سے مسلسل دھمکیوں اور مغربی ممالک کے دو ٹوک موقف کے بعد مذاکرات کے امکانات کم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ مستقبل میں اس تنازع کے بڑھنے کے خدشات اپنی جگہ، فی الحال دونوں ممالک کے درمیان لفظی جنگ شدت اختیار کر چکی ہے۔ برطانیہ کا اصرار ہے کہ وہ یوکرین کی فوجی مدد سے پیچھے نہیں ہٹے گا، جبکہ روس نے واضح کر دیا ہے کہ وہ یوکرین کو ملنے والی کسی بھی عسکری امداد کو اپنے قومی مفادات کے خلاف سمجھے گا۔ یہ کشیدگی اب صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ عالمی سفارت کاری کے ایوانوں میں بھی ایک بڑا موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔