LIVE
Loading Breaking News...

ڈونلڈ ٹرمپ کا کوریا پالیسی میں تبدیلی اور فوجی مشقیں کم کرنے کا اعلان

News Image
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ اچھے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں نمایاں طور پر کم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بی بی سی کی ایک تفصیلی رپورٹ میں اس سفارتی اور دفاعی تبدیلی کے خطے پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں شمالی اور جنوبی کوریا کے حوالے سے اپنے موقف میں ایک اہم تبدیلی کا اشارہ دیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ جنوبی کوریا کے ساتھ اپنی مشترکہ فوجی مشقوں کو نمایاں طور پر کم کر دے گا۔ اس فیصلے کی بنیادی وجہ انہوں نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ اپنے مبینہ طور پر بہت اچھے تعلقات کو قرار دیا ہے۔ یہ اقدام خطے میں امن کی کوششوں اور امریکی دفاعی حکمت عملی کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ ماضی میں امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان باقاعدگی سے بڑی فوجی مشقیں منعقد کی جاتی رہی ہیں جنہیں خطے میں دفاعی اتحاد کی علامت اور شمالی کوریا کی جارحیت کے خلاف ایک طاقتور پیغام سمجھا جاتا تھا۔ تاہم، اب امریکی صدر کی طرف سے ان مشقوں میں کمی کا عندیہ دینے سے کورین خطے کے سکیورٹی اور سفارتی منظرنامے میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان مذاکرات کی فضا کو بحال کرنے کی ایک اور کوشش بھی ہو سکتا ہے، لیکن اس سے سیول کے ساتھ امریکہ کے دفاعی تعاون پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس پر سوالیہ نشان موجود ہیں۔ بی بی سی کے تجزیے کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے ہمیشہ سے ذاتی تعلقات اور سربراہی سطح کی ملاقاتوں کو سفارت کاری میں بنیادی اہمیت دی ہے۔ کم جونگ ان کے ساتھ ان کے تعلقات کو وہ اپنی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کرتے آئے ہیں۔ اس تناظر میں فوجی مشقوں میں کمی کا مقصد شمالی کوریا کو یہ باور کرانا ہے کہ واشنگٹن خطے میں تناؤ کو کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔ دوسری طرف، جنوبی کوریا کی حکومت کے لیے یہ صورتحال کچھ پیچیدہ ہو سکتی ہے کیونکہ وہ اپنی قومی سلامتی کے لیے امریکی سکیورٹی شیلڈ پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔ اس پیشرفت کے بعد اب بین الاقوامی سطح پر یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ آیا یہ قدم کورین جزیرہ نما کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کی جانب کوئی سنجیدہ پیش رفت ثابت ہو گا یا پھر اس سے خطے کے طاقت توازن میں کوئی غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگی۔ آنے والے دنوں میں اس بات کا اندازہ لگانا مزید آسان ہو جائے گا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اس نئی حکمت عملی کے تحت کس طرح آگے بڑھتے ہیں۔