World
انگلینڈ میں معذور افراد کے لیے مفت بس سفر کی نئی سہولت
برطانیہ کی حکومت نے معذور افراد کے لیے ایک بڑے اقدام کا اعلان کیا ہے جس کے تحت انہیں بسوں میں چوبیس گھنٹے مفت سفر کی سہولت ملے گی۔ یہ نئی پالیسی اپریل کے مہینے سے انگلینڈ بھر میں باضابطہ طور پر نافذ کر دی جائے گی۔
انگلینڈ میں رہائش پذیر معذور افراد کے لیے حکومت نے ایک انتہائی خوش آئند اعلان کیا ہے جس کے تحت انہیں اب بسوں میں سفر کے لیے کسی وقت کی قید کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ حکومتی اعلامیے کے مطابق، معذور افراد اب 24 گھنٹے بلا معاوضہ بس سروس سے استفادہ کر سکیں گے۔ یہ نئی تبدیلی اپریل کے مہینے سے باقاعدہ طور پر انگلینڈ بھر میں لاگو کر دی جائے گی، جس کا مقصد معذور شہریوں کو معاشرتی دھارے میں شامل کرنا اور ان کی نقل و حرکت کو مزید آسان بنانا ہے۔
اس فیصلے کا خیرمقدم مختلف فلاحی تنظیموں اور معذور افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں نے کیا ہے۔ ان گروپس کا کہنا ہے کہ ماضی میں بس کے مفت پاسز کے استعمال پر اوقات کی پابندی ہونے کی وجہ سے بہت سے افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، خاص طور پر رات کے اوقات میں یا دیر گئے سفر کرنے والوں کے لیے یہ ایک بڑی رکاوٹ تھی۔ اب اس پابندی کے خاتمے کے بعد، یہ افراد کسی بھی وقت اپنی ضرورت کے مطابق سفر کر سکیں گے، جس سے ان کی آزادی اور خود مختاری میں اضافہ ہوگا۔
حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عوامی ٹرانسپورٹ کو زیادہ جامع اور سب کے لیے یکساں بنانے کے عزم کا حصہ ہے۔ اس پالیسی سے نہ صرف معذور افراد کی زندگیوں میں بہتری آئے گی بلکہ انہیں ملازمت، صحت کی سہولیات اور دیگر سماجی سرگرمیوں تک رسائی میں بھی آسانی ہوگی۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تبدیلی سے پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال میں بھی اضافہ متوقع ہے، کیونکہ اب معذور افراد زیادہ اعتماد کے ساتھ اپنی نقل و حمل کا منصوبہ بنا سکیں گے۔
حکومت نے اس سلسلے میں تمام مقامی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو بھی ہدایت جاری کر دی ہیں تاکہ اپریل سے شروع ہونے والے اس پروگرام پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ مقامی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مسافروں کو اس نئی سہولت کے بارے میں آگاہی فراہم کریں اور بسوں میں موجود عملے کو بھی تربیت دیں تاکہ معذور افراد کو کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔ یہ اقدام برطانیہ میں معذور افراد کے حقوق کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔