LIVE
Loading Breaking News...

برطانوی وزیراعظم کی سیکیورٹی میں بڑی خامی کا انکشاف

News Image
برطانوی وزیراعظم کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے چیف آف اسٹاف ظاہر کرنے والے ایک شخص کے ساتھ ٹیکسٹ میسجز کا تبادلہ کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس واقعے نے برطانیہ کے اعلیٰ حکومتی حلقوں میں سیکیورٹی اور احتیاطی تدابیر پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
برطانیہ کے سیاسی حلقوں میں اس وقت ایک بڑی ہلچل مچ گئی ہے جب یہ انکشاف ہوا کہ ملک کے وزیراعظم ایک ایسے شخص کے ساتھ ٹیکسٹ میسجز کا تبادلہ کرتے رہے جس نے خود کو ڈونلڈ ٹرمپ کے چیف آف اسٹاف کے طور پر متعارف کروایا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ حکومتی سطح پر سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات اور پروٹوکولز پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن کر سامنے آیا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے نادانستہ طور پر ایک دھوکہ باز کو اہم معلومات یا رابطے کا موقع دینے پر اب مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے۔ اخبارات نے اسے ایک سنگین سیکیورٹی کوتاہی قرار دیا ہے اور پوچھا ہے کہ آخر وزیراعظم کو دھوکہ دینے والا کون تھا اور اس نے کس طرح اعلیٰ ترین سطح تک رسائی حاصل کر لی؟ اس واقعے نے برطانوی خفیہ ایجنسیوں اور وزیراعظم ہاؤس کے عملے کے کردار کو بھی مشکوک بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں اس طرح کی 'فشنگ' یا دھوکہ دہی کی کوششیں عالمی رہنماؤں کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہیں، جہاں ایک عام ٹیکسٹ پیغام بھی ملکی سلامتی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس واقعے کے بعد تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وزیراعظم کی سیکیورٹی میں یہ نقب کیسے لگی۔ عوام اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس معاملے پر سخت تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ واقعہ نہ صرف وزیراعظم کی ساکھ کو متاثر کرے گا بلکہ مستقبل میں دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ رابطوں کے حوالے سے بھی مزید سخت ایس او پیز کی ضرورت کو اجاگر کرے گا۔ دوسری جانب، میڈیا میں اس خبر کے ساتھ ساتھ دیگر اہم موضوعات بشمول کھیلوں کی دنیا میں پیش آنے والی صورتحال جیسے کہ پیپ گارڈیولا کی پریشانیوں پر بھی بحث جاری ہے۔ تاہم، وزیراعظم والا معاملہ اس وقت برطانیہ کی اہم ترین سرخیوں میں سرفہرست ہے کیونکہ اس نے حکومتی اعتماد اور سیکیورٹی سسٹم کی اہلیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیمیں اب اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ آیا اس واقعے کے پیچھے کسی غیر ملکی ایجنسی کا ہاتھ تھا یا یہ محض ایک انفرادی دھوکہ دہی کی کوشش تھی۔