LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ اور سعودی عرب کے عراق میں ایران نواز گروہوں پر فضائی حملے

News Image
امریکہ اور سعودی عرب کی مشترکہ افواج نے عراق کے اندر ایران کے حامی عسکری گروہوں کو نشانہ بناتے ہوئے فضائی کارروائیاں کی ہیں۔ اس پیش رفت سے خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
واشنگٹن اور ریاض کی طرف سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق امریکہ اور سعودی عرب نے مشترکہ طور پر عراق میں کارروائیاں کرتے ہوئے ان مسلح گروہوں کو نشانہ بنایا ہے جنہیں تہران کی پشت پناہی حاصل بتائی جاتی ہے۔ یہ مشترکہ فضائی حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب خطے میں پہلے سے ہی سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی حساس اور کشیدہ چلی آ رہی ہے۔ دونوںممالک کی عسکری قیادت کا ماننا ہے کہ اس قسم کے اقدامات خطے میں استحکام لانے اور اتحادی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان حملوں میں مخصوص عسکری تنصیبات اور ٹھکانوں کو ہدف بنایا گیا تاکہ مبینہ طور پر خطے میں سرگرم ملیشیا کی سرگرمیوں کو محدود کیا جا سکے۔ تاہم، اس کارروائی کے نتیجے میں ہونے والے جانی یا مالی نقصان کی مکمل تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آ سکی ہیں اور متعلقہ حکام کی طرف سے مزید معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ اس حملے کے بعد خطے کے دیگر ممالک اور بین الاقوامی برادری کی طرف سے بھی مختلف ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے، کیونکہ عراقی سرزمین پر اس طرح کی مشترکہ کارروائیاں پہلے ہی مقامی حکومت اور سیاسی حلقوں کے لیے پیچیدہ مسائل پیدا کرتی رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ قدم مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے اور عسکریت پسندوں کے خلاف جاری کوششوں کا حصہ ہے، جس کے دور رس نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ علاقائی ممالک کی جانب سے اب اس صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آئندہ دنوں میں اس کے خطے کی سیاست اور سیکیورٹی پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔