Entertainment
اسٹار ٹریک: دی نیکسٹ جنریشن کی منسوخی پر لیجنڈری پروڈیوسر کا بیان
مشہور زمانہ ٹی وی سیریز اسٹار ٹریک: دی نیکسٹ جنریشن کے لیجنڈری پروڈیوسر نے انکشاف کیا ہے کہ اس شو کو ختم کرنے کی ضرورت نہیں تھی اور یہ مزید تین سال تک کامیابی سے چل سکتا تھا۔ یہ سیریز 1987 سے 1994 تک نشر ہوئی اور اس نے ٹیلی ویژن کی دنیا میں نئے ریکارڈز قائم کیے۔
اسٹار ٹریک: دی نیکسٹ جنریشن (TNG) ٹیلی ویژن کی تاریخ کے ان چند شوز میں سے ایک ہے جس نے سائنس فکشن کے میدان میں ایک نئی روح پھونک دی۔ حال ہی میں اس لیجنڈری سیریز کے پروڈیوسر کی جانب سے ایک ایسا بیان سامنے آیا ہے جس نے شائقین کو حیران کر دیا ہے۔ پروڈیوسر کا کہنا ہے کہ 1994 میں جب اس سیریز کو ختم کیا گیا، تب اس کی مقبولیت اپنے عروج پر تھی اور اسے مزید تین سال تک جاری رکھنے میں کوئی تکنیکی یا تخلیقی رکاوٹ موجود نہیں تھی۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ اسٹوڈیو کی حکمت عملی کا حصہ تھا، نہ کہ شائقین کی عدم دلچسپی کا نتیجہ۔
یہ سیریز 1987 سے 1994 تک سات سیزنز پر محیط رہی اور اس دوران اس نے نہ صرف ریٹنگ کے کئی ریکارڈ توڑے بلکہ ٹیلی ویژن انڈسٹری میں 'سنڈیکیشن ماڈل' کو بھی ایک نئی شکل دی۔ دی نیکسٹ جنریشن اس دور کا سب سے بڑا ریٹنگ جگرناٹ ثابت ہوا، جس نے ٹیلی ویژن نیٹ ورکس کے لیے ایک ایسا راستہ ہموار کیا جسے بعد میں کئی دیگر کامیاب شوز نے اپنایا۔ پروڈیوسر کا ماننا ہے کہ اگر اس وقت کے حالات مختلف ہوتے، تو یہ سیریز اپنے کرداروں اور کہانی کے تسلسل کو مزید بہتر انداز میں پیش کر سکتی تھی۔
اگرچہ اسٹار ٹریک کے اس ورژن کو ختم کر دیا گیا، لیکن اس کی میراث آج بھی برقرار ہے۔ اس سیریز کے ختم ہونے کے بعد بھی اس کے کرداروں اور کہانیوں نے کئی فلموں اور اسپن آف سیریز کی بنیاد رکھی۔ ناقدین کا یہ ماننا ہے کہ اگر یہ مزید تین سال چلتی تو شاید آج اسٹار ٹریک کا کائنات (Universe) کچھ اور ہوتا۔ تاہم، مداحوں کے لیے یہ انکشاف ایک تلخ یاد دہانی ہے کہ بہترین شوز اکثر اپنی کہانی مکمل کرنے سے پہلے ہی اسٹوڈیوز کی تجارتی پالیسیوں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اسٹار ٹریک: دی نیکسٹ جنریشن کی کامیابی صرف اس کے اسپیشل ایفیکٹس یا مستقبل کی کہانیوں میں نہیں تھی، بلکہ اس کے کرداروں کے درمیان گہرے جذباتی روابط میں تھی۔ آج بھی جب ہم اس سیریز کے پرانے اقساط کو دیکھتے ہیں، تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس میں ابھی بہت کچھ کہنے کو باقی تھا۔ پروڈیوسر کا یہ بیان اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ تخلیقی طور پر یہ ٹیم مزید بہت کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی، لیکن وقت کا پہیہ شاید کسی اور سمت میں گھومنا تھا۔