Technology
ایل جی اور اینویڈیا کا مصنوعی ذہانت اور ہیومنائیڈ روبوٹس پر بڑا تعاون
ایل جی الیکٹرانکس نے اینویڈیا کے ساتھ مل کر جدید ترین ہیومنائیڈ روبوٹس اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی فیکٹریوں کی تیاری کا اعلان کیا ہے۔ یہ اشتراک مستقبل میں عالمی سطح پر مینوفیکچرنگ اور آٹوموبائل انڈسٹری میں نمایاں تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔
جنوبی کوریا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایل جی الیکٹرانکس نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے شعبے میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے امریکی ٹیکنالوجی جائنٹ اینویڈیا کے ساتھ اپنے تعاون کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ بدھ کے روز جاری کردہ ایک بیان میں ایل جی نے تصدیق کی ہے کہ وہ اینویڈیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے اگلی نسل کے بائی پیڈل (دو ٹانگوں والے) ہیومنائیڈ روبوٹ تیار کر رہی ہے۔ یہ منصوبہ صرف روبوٹکس تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ کار فیکٹریوں کی خودکار پیداوار، جدید گاڑیوں کے نظام اور سروس روبوٹس کی تعیناتی تک پھیلا ہوا ہے جو عالمی سطح پر مینوفیکچرنگ کے عمل کو ہمیشہ کے لیے بدل سکتے ہیں۔
اس شراکت داری کے تحت ایل جی اینویڈیا کے ہارڈویئر اور سافٹ ویئر پلیٹ فارمز کا بھرپور استعمال کرے گی تاکہ روبوٹس میں ایسی ذہانت پیدا کی جا سکے جو انہیں پیچیدہ انسانی ماحول میں کام کرنے کے قابل بنا سکے۔ ایل جی کے مطابق یہ روبوٹس نہ صرف فیکٹریوں میں مزدوری کے کام انجام دیں گے بلکہ انہیں گاڑیوں کی تیاری اور دیگر صنعتی شعبوں میں بھی تعینات کیا جائے گا جہاں درستگی اور تیزی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اینویڈیا کا اے آئی کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر ان روبوٹس کو سیکھنے اور اپنے ماحول کو سمجھنے میں مدد فراہم کرے گا، جس سے ان کی کارکردگی میں ڈرامائی بہتری آئے گی۔
ایل جی کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، یہ اشتراک ایک 'اے آئی فیکٹری' کے تصور کو حقیقت کا روپ دے گا جہاں مکمل طور پر خودکار نظام کام کریں گے۔ اس کے علاوہ، خودکار گاڑیوں (Autonomous Vehicles) کے اندر اینویڈیا کی اے آئی ٹیکنالوجی کو ضم کرنے سے ایل جی کا مقصد سمارٹ گاڑیوں کے تجربے کو ایک نئی سطح پر لے جانا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایل جی اور اینویڈیا کا یہ اتحاد دنیا بھر کی ٹیک مارکیٹ میں ایک زبردست ہلچل پیدا کرے گا اور مسابقت کو مزید تیز کر دے گا۔ آنے والے سالوں میں، یہ ٹیکنالوجی عام صارفین کی زندگیوں اور صنعتی پیداوار کے طریقوں میں نمایاں تبدیلیاں لانے کا سبب بنے گی، جس سے لیبر کے اخراجات میں کمی اور پیداواری صلاحیت میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے۔