Pakistan
کے ایم سی: زمینوں میں خرد برد پر دو افسران نوکری سے فارغ
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے زمینوں کے غیر قانونی معاملات میں ملوث ہونے پر اپنے دو افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ محکمہ کی جانب سے احتساب کے عمل کو تیز کرنے اور بدعنوانی کے خاتمے کے عزم کے تحت کیا گیا ہے۔
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے اپنے محکمے میں شفافیت کو یقینی بنانے اور بدعنوانی کے خلاف جاری مہم کے تحت ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے زمینوں کے امور سے متعلق دو اعلیٰ افسران کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان افسران پر زمینوں کی الاٹمنٹ، ریکارڈ میں ہیر پھیر اور غیر قانونی قبضوں میں سہولت کاری کے الزامات تھے، جس کی تصدیق اندرونی انکوائری کے بعد کی گئی۔ کے ایم سی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ادارے میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی اور غفلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ذمہ داران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کا عمل جاری رہے گا۔
برطرف کیے گئے افسران پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے شہر کی قیمتی زمینوں کے ریکارڈ کو مسخ کیا اور غیر قانونی طریقے سے نجی افراد کو فائدہ پہنچایا۔ یہ کیس کافی عرصے سے زیر تفتیش تھا، جس کے بعد حکام نے حتمی فیصلہ لیتے ہوئے دونوں ملازمین کو فوری طور پر عہدوں سے فارغ کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔ انتظامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں سے نہ صرف ادارے کا وقار بحال ہوگا بلکہ دیگر سرکاری ملازمین کے لیے بھی ایک مثال قائم ہوگی کہ کرپشن کا انجام ملازمت کی برطرفی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
شہر کراچی میں سرکاری اراضی کے معاملات ہمیشہ سے ہی توجہ کا مرکز رہے ہیں، اور ماضی میں بھی متعدد بار اس قسم کی شکایات موصول ہوئی ہیں کہ کے ایم سی کے زیر انتظام زمینوں کو غیر قانونی طور پر تجارتی یا رہائشی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ موجودہ انتظامیہ نے اب ایسے تمام کیسز کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان عناصر کو بے نقاب کیا جا سکے جو سرکاری خزانے اور زمینوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ کے ایم سی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک ابتدائی قدم ہے اور آنے والے دنوں میں مزید انکوائریز کی بنیاد پر سخت فیصلے لیے جا سکتے ہیں۔
اس فیصلے کو عوامی حلقوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے سراہا جا رہا ہے، جس کا مطالبہ طویل عرصے سے یہی تھا کہ بلدیاتی اداروں میں موجود کالی بھیڑوں کا احتساب کیا جائے۔ شہریوں کا ماننا ہے کہ اگر محکمہ کی جانب سے شفافیت کا یہ سلسلہ برقرار رہا تو اس سے شہر کے انتظامی امور میں بہتری آئے گی اور زمینوں پر قبضے جیسے مسائل میں خاطر خواہ کمی واقع ہوگی۔ کے ایم سی کے اعلیٰ حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ آئندہ بھی کسی بھی قسم کی بے ضابطگی پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی اور عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے بنی اراضی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔