LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ میں خاندانی اقدار اور سیاست، بائیں اور دائیں بازو کا فرق

News Image
امریکی سیاست میں خاندانی اقدار اور بچوں کے موضوع پر بائیں بازو اور دائیں بازو کے درمیان فرق کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ معروف تبصرہ نگار میران ڈیوائن نے اس تنازع کو جدید دور کا ایک افسوسناک پہلو قرار دیا ہے۔
امریکی سیاست میں خاندانی اقدار اور بچوں کی پرورش کے موضوع پر بائیں بازو اور دائیں بازو کے درمیان نظریاتی خلیج ایک بار پھر واضح ہو گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، جدید دور میں خاندانی نظام اور بچوں کی پیدائش سے جڑے مسائل کو بھی اب سیاسی چشمے سے دیکھا جانے لگا ہے، جس سے معاشرتی تقسیم مزید گہری ہو رہی ہے۔ حال ہی میں اس بحث نے اس وقت اور زیادہ زور پکڑا جب نیویارک سے ڈیموکریٹک سوشلسٹ کانگریس وومن الیگزینڈریا اوکاسیو کارٹیز نے اپنے زرخیزی کے سفر اور اس سے جڑے چیلنجز کو عوامی سطح پر لائیو اسٹریمز کے ذریعے شیئر کیا۔ اس ذاتی نوعیت کے اقدام نے نہ صرف ان کے حمایتیوں کی توجہ حاصل کی بلکہ سیاسی حریفوں کی جانب سے بھی اس پر شدید تبصرے کیے گئے۔ اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے ممتاز کالم نگار اور تجزیہ کار میران ڈیوائن نے اسے موجودہ دور کی ایک انتہائی افسوسناک کہانی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ذاتی اور حساس معاملات کو عوامی پلیٹ فارمز پر لانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آج کے معاشرے میں خاندانی اقدار کا مفہوم کس حد تک تبدیل ہو چکا ہے۔ ایک طرف جہاں بائیں بازو کے رہنما اسے خواتین کی آزادی، ذاتی انتخاب اور عوامی بیداری کی علامت کے طور پر دیکھتے ہیں، وہیں دوسری طرف دائیں بازو اور قدامت پسند حلقے اسے روایتی خاندانی اقدار کے زوال اور معاشرتی انحطاط کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ اس نظریاتی رسہ کشی نے امریکی معاشرے میں خاندانی زندگی، بچوں کی پیدائش اور مستقبل کے حوالے سے ایک گہری بحث چھیڑ دی ہے، جس کے اثرات آنے والے انتخابات اور پالیسی سازی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک دونوں سیاسی دھڑے اس حساس معاملے پر ایک متفقہ لائحہ عمل یا احترام کا رویہ اختیار نہیں کرتے، معاشرتی تقسیم میں کمی آنا مشکل ہے۔