LIVE
Loading Breaking News...

جرمنی لازمی فوجی سروس واپسی: رضاکارانہ بھرتی ناکام

News Image
جرمنی میں رضاکارانہ فوجی بھرتی کی مہم کو اس سال اب تک انتہائی سست ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے بعد لازمی فوجی سروس کی واپسی پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال کے پیش نظر حکومت دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے نئے اقدامات پر غور کر رہی ہے۔
برلن (نیکسورا نیوز اردو) یورپی ملک جرمنی میں ایک بار پھر لازمی فوجی سروس کی واپسی کے حوالے سے چہ مگوئیاں اور سیاسی مباحثے تیز ہو گئے ہیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق ملک میں شروع کی جانے والی رضاکارانہ بھرتی کی تازہ مہم کو عوام کی جانب سے وہ پذیرائی نہیں مل سکی جس کی عسکری حکام نے توقع کی تھی۔ رواں سال کے دوران اب تک صرف پانچ سو افراد نے اس رضاکارانہ مہم کے تحت فوج میں شمولیت اختیار کی ہے جو کہ دفاعی ضروریات کے مقابلے میں انتہائی کم تعداد ہے۔ دوسری جانب کثیر تعداد میں نوجوان فوج میں جانے کے بجائے اس سے دور رہنے اور لازمی خدمات سے استثنا حاصل کرنے کے خواہشمند نظر آتے ہیں۔ ملک کے دفاعی حلقوں میں اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ بدلتے ہوئے عالمی سیاسی اور سکیورٹی حالات کے تناظر میں جرمن فوج کو تجربہ کار اور فعال جوانوں کی اشد ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رضاکارانہ ماڈل کی اس طرح کی ناکامی پالیسی سازوں کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ ماضی کے لازمی فوجی نظام یا اس سے ملتے جلتے کسی متبادل نظام کی طرف واپس جانے کے امکانات کا جائزہ لیں۔ اس معاملے پر ملک کی سیاسی جماعتوں کے درمیان بھی بحث کا آغاز ہو چکا ہے جہاں ایک طرف ملکی دفاع اور سلامتی کو اولین ترجیح دینے پر زور دیا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف شہری آزادیوں اور انفرادی حقوق کے حامی حلقے اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں جرمن حکومت کی جانب سے اس حساس موضوع پر کوئی اہم پالیسی فیصلہ متوقع ہے جو ملک کے مستقبل کے دفاعی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔