LIVE
Loading Breaking News...

آئی آئی ایم شیلانگ: ذمہ دار قیادت اور وکست بھارت کا خواب

News Image
آئی آئی ایم شیلانگ کے ڈائریکٹر پروفیسر ارون موہن شیری نے نوجوان مینجمنٹ پروفیشنلز پر زور دیا ہے کہ وہ کاروباری مہارت کے ساتھ ہمدردی اور دیانتداری کو شامل کریں۔ ان کا ماننا ہے کہ ذمہ دار قیادت ہی ملک کی تعمیر اور شمال مشرقی خطے کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) شیلانگ کے ڈائریکٹر پروفیسر ارون موہن شیری نے نوجوان مینجمنٹ پروفیشنلز پر زور دیا ہے کہ وہ قیادت کے روایتی تصورات کو ازسرنو متعین کریں۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ موجودہ دور میں محض کاروباری مہارت ہی کافی نہیں ہے، بلکہ اسے ہمدردی، دیانتداری اور معاشرے کی فلاح و بہبود کے عزم کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر شیری نے کہا کہ آج کے نوجوان لیڈرز کو ملک کی تعمیر اور خاص طور پر شمال مشرقی خطے کی ترقی میں فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ پروفیسر شیری نے مزید کہا کہ 'وکست بھارت' (ترقی یافتہ ہندوستان) کا خواب تب ہی شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے جب تعلیمی ادارے اور طلباء اپنی صلاحیتوں کو قومی مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔ انہوں نے کہا کہ شمال مشرقی خطہ بے پناہ قدرتی اور انسانی وسائل سے مالا مال ہے، اور ان وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے کے لیے ایسے لیڈروں کی ضرورت ہے جو مقامی مسائل کو سمجھیں اور جدید مینجمنٹ ٹیکنکس کے ذریعے ان کا پائیدار حل نکال سکیں۔ مزید برآں، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اخلاقیات پر مبنی قیادت ہی کارپوریٹ دنیا میں پائیدار تبدیلی لا سکتی ہے۔ ان کے مطابق، جب مینجمنٹ کے طلباء اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کرتے ہیں، تو انہیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ان کے فیصلے نہ صرف منافع بلکہ سماجی بہتری پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ آئی آئی ایم شیلانگ کا مقصد ایسے لیڈرز تیار کرنا ہے جو تکنیکی طور پر ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی اقدار کے پاسدار بھی ہوں اور ہندوستان کے عالمی وژن میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ آخر میں، پروفیسر شیری نے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایسے ماڈلز تخلیق کریں جو دوسروں کے لیے مشعل راہ بنیں۔ شمال مشرقی خطے کی معاشی ترقی کے لیے انہوں نے مختلف شعبوں کے درمیان باہمی تعاون کو ناگزیر قرار دیا، تاکہ ہندوستان ایک مضبوط معاشی طاقت کے طور پر ابھر سکے۔ یہ خطاب طلباء کے لیے ایک مشن کی حیثیت رکھتا ہے جو مستقبل میں ذمہ دارانہ قیادت کے ذریعے ملک کی تقدیر بدلنے کا عزم رکھتے ہیں۔