Politics
چیف جسٹس سوریہ کانت کا نلسار یونیورسٹی کانووکیشن دعوت نامہ مسترد
بھارت کے چیف جسٹس سوریہ کانت نے طلبہ کے احتجاج اور بار کونسل کے ساتھ جاری تنازع کے باعث نلسار یونیورسٹی کے کانووکیشن میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے ان کے کچھ سابقہ ریمارکس پر اعتراض اٹھایا گیا تھا جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی تھی۔
بھارت کے چیف جسٹس سوریہ کانت نے نلسار یونیورسٹی آف لاء کے سالانہ کانووکیشن میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کرنے کی دعوت کو ٹھکرا دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یونیورسٹی کے طلبہ اور انتظامیہ کے درمیان ان کی آمد کے حوالے سے شدید تحفظات اور تنازعات پیدا ہو چکے تھے۔ طلبہ کی جانب سے چیف جسٹس کے ماضی کے کچھ ریمارکس پر اعتراضات اٹھائے گئے تھے، جن کا اظہار انہوں نے ایک احتجاجی سماعت کے دوران کیا تھا۔ ان ریمارکس کو لے کر طلبہ تنظیموں نے چیف جسٹس کی یونیورسٹی آمد پر احتجاج کا عندیہ دیا تھا۔ دوسری جانب، بار کونسل آف انڈیا (BCI) نے اس تنازع میں مداخلت کرتے ہوئے طلبہ کو سخت تنبیہ کی تھی۔ بار کونسل نے واضح کیا تھا کہ اگر طلبہ نے احتجاجی سرگرمیوں میں حصہ لیا یا چیف جسٹس کی آمد میں رکاوٹ ڈالی تو انہیں مستقبل میں وکالت کے شعبے سے معطل کیا جا سکتا ہے اور ان کے لائسنس کے حصول پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ بار کونسل کے اس سخت مؤقف نے طلبہ میں غم و غصے کو مزید ہوا دی، جس کے نتیجے میں یونیورسٹی کیمپس میں ماحول انتہائی کشیدہ ہو گیا تھا۔ تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ چیف جسٹس سوریہ کانت کا یہ فیصلہ حالات کی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک دانشمندانہ اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے تنازع سے بچنے کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے تاکہ تعلیمی ادارے کا وقار اور کانووکیشن کی تقریب کا تقدس برقرار رہے۔ اس واقعہ نے بھارت میں قانونی برادری، عدلیہ اور قانون کے طلبہ کے درمیان موجود خلیج کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ فی الحال، نلسار یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اس صورتحال پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم طلبہ کا ایک بڑا حصہ اب بھی اپنے مطالبات پر قائم نظر آتا ہے۔