Politics
بھارت کا وِکسِت بھارت 2047 مشن اور سات کلیدی پالیسیاں
بھارت نے سن 2047 تک خود کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے سات کلیدی شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم کی جانب سے متعارف کرایا گیا یہ 'سپت دھارا' کا تصور قومی ترقی اور خود انحصاری کے حصول کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔
بھارت نے سن 2047 تک اپنے آپ کو ایک مکمل 'وِکسِت بھارت' یا ترقی یافتہ ملک کے طور پر دیکھنے کے لیے ایک وسیع اور منظم لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ اس عزم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وزیر اعظم کی جانب سے 'سپت دھارا' یعنی سات کلیدی دھاروں (فارم) پر مبنی پالیسیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان سات شعبوں کو ملکی ترقی کے حصول کے لیے بنیادی ستون مانا جا رہا ہے، جن کا مقصد نہ صرف معاشی استحکام ہے بلکہ ٹیکنالوجی، سماجی بہبود اور بنیادی ڈھانچے میں انقلابی تبدیلیاں لانا بھی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سات شعبے آنے والے دہائیوں میں ہندوستان کی اقتصادی اور سماجی سمت کا تعین کریں گے۔
اس حکمت عملی کا ایک اہم پہلو تعلیم کے شعبے کو مرکزی حیثیت دینا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ تعلیم ہر اس دھارے کے لیے ایک 'ٹیلنٹ ٹریبیوٹری' یعنی صلاحیت پیدا کرنے والے چشمے کا کردار ادا کرے گی جو ترقی کی راہ میں رکاوٹیں دور کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ جب تک ملک کے نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ہنر مند اور تعلیم یافتہ نہیں بنایا جاتا، تب تک دیگر چھ شعبوں میں کامیابی حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ لہذا، تعلیمی نصاب میں اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی کا انضمام ان سات اہداف کی کامیابی کی کلید ہے۔
'سپت دھارا' کے تحت پالیسی سازی کے عمل میں شفافیت اور طویل مدتی اہداف کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، صحت کی دیکھ بھال، زراعت، صنعت، اور ٹیکنالوجی کے شعبے شامل ہیں، جنہیں مربوط حکمت عملی کے تحت چلایا جائے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے سے نہ صرف بیروزگاری کی شرح میں کمی آئے گی بلکہ بھارت عالمی منڈی میں ایک مضبوط اقتصادی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آئے گا۔ ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے وفاقی اور ریاستی سطح پر وسائل کی تقسیم کو بہتر بنانا بھی اس منصوبے کا ایک ناگزیر حصہ ہے۔
آخر میں، وِکسِت بھارت 2047 کا سفر صرف سرکاری پالیسیوں پر منحصر نہیں بلکہ اس میں عوامی شراکت داری اور نجی شعبے کی شمولیت بھی یکساں اہمیت رکھتی ہے۔ سات دھاروں کا یہ نظام بھارت کو ایک خود انحصار اور جدید ریاست بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ اگر ان پالیسیوں پر مستقل مزاجی سے عملدرآمد کیا گیا تو ہندوستان نہ صرف اپنی معاشی مشکلات پر قابو پا لے گا بلکہ دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ممالک کی صف میں بھی شامل ہو جائے گا۔