World
کنگز کالج لاگوس کی نجکاری کیخلاف والدین کا احتجاج
وفاقی حکومت کی جانب سے کنگز کالج لاگوس کو سابق طلبہ تنظیم کے حوالے کرنے کے فیصلے پر والدین سراپا احتجاج ہیں۔ اس متنازعہ پیش رفت کے بعد والدین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز اب ملک گیر مظاہروں کی تیاری کر رہے ہیں۔
نائجیریا کے تعلیمی حلقوں میں کنگز کالج لاگوس کو سابق طلبہ ایسوسی ایشن یعنی کے سی او بی اے (KCOBA) کے حوالے کرنے کے وفاقی حکومت کے فیصلے نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس متنازعہ فیصلے کے بعد کالج کے والدین اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور اس اقدام کو کالج کے مستقبل کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ والدین کا ماننا ہے کہ اس طرح کی انتظامی تبدیلیوں سے کالج کا معیار تعلیم متاثر ہو سکتا ہے اور یہ کالج کی تاریخی حیثیت کو بھی نقصان پہنچائے گا۔
اس صورتحال کے پیش نظر والدین نے ملک گیر سطح پر احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق والدین اور دیگر اسٹیک ہولڈرز اس وقت بڑے پیمانے پر موبلائزیشن کر رہے ہیں تاکہ حکومتی فیصلے کو واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔ احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اس طرح نجی گروپوں یا سابقہ ایسوسی ایشنز کے حوالے کرنے کے بجائے اپنی نگرانی میں ان کے نظام کو بہتر بنانا چاہیے۔
کنگز کالج لاگوس نائیجیریا کا ایک تاریخی تعلیمی ادارہ ہے اور اس کے انتظامی امور میں تبدیلی کے معاملے پر اس سے قبل بھی کئی بار اختلافات سامنے آ چکے ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ یہ فیصلہ انتظامی بہتری کے لیے کیا گیا ہے تاہم نقادوں کا یہ کہنا ہے کہ یہ اقدام دراصل کالج کی نجکاری کی جانب پہلا قدم ہے جس سے غریب طبقے کے طلبا کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ احتجاجی گروپوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر اس فیصلے کو معطل کرے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کا عمل شروع کرے۔
فی الحال صورتحال کافی کشیدہ ہے اور مختلف شہری تنظیمیں اور سول سوسائٹی کے ارکان بھی والدین کے اس احتجاج میں شامل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں لاگوس کی سڑکوں پر بڑے احتجاج کا امکان ہے جس سے ٹریفک اور نظام زندگی پر اثر پڑ سکتا ہے۔ حکومتی عہدیداروں کی جانب سے فی الحال اس معاملے پر کوئی حتمی بیان سامنے نہیں آیا ہے تاہم عوامی دباؤ بڑھنے کے ساتھ ہی اس معاملے کے مزید شدت اختیار کرنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔