LIVE
Loading Breaking News...

ماحولیاتی تبدیلی: 42 سال بعد پائلٹ کا استعفیٰ اور بیکر بننے کا انوکھا فیصلہ

News Image
آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ایک تجربہ کار پائلٹ جیف کولس نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر اپنی چار دہائیوں پر محیط نوکری چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب وہ ہوائی جہاز اڑانے کے بجائے بیکری میں روٹی اور پیسٹری بناتے ہوئے سکون محسوس کر رہے ہیں۔
آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ایک تجربہ کار کمرشل پائلٹ جیف کولس نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے اپنے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر 42 سالہ طویل کیریئر کو خیرباد کہہ کر بیکری کا پیشہ اپنانے کا حیران کن فیصلہ کیا ہے۔ ساٹھ برس سے زائد عمر کے جیف کولس، جو جیٹ سٹار جیسی نامور ایئرلائن کے ساتھ طویل عرصے سے وابستہ تھے، کا کہنا ہے کہ انہیں طویل عرصے تک فضاؤں میں پرواز کرنے کے بعد اب زمین پر اپنے ضمیر کی آواز سننا زیادہ اہم لگ رہا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ جس طرح فضائی آلودگی اور کاربن کا اخراج کرہ ارض کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے، اسے دیکھتے ہوئے انہوں نے محسوس کیا کہ اب وہ اس پیشے کو مزید جاری نہیں رکھ سکتے۔ جیف کولس کے مطابق، چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک پائلٹ کی ذمہ داریاں نبھانے کے بعد، انہیں اکثر یہ سوال پریشان کرتا تھا کہ کیا ان کا یہ پیشہ موسمیاتی بحران میں مزید اضافہ تو نہیں کر رہا؟ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت ایسا آیا جب انہیں لگا کہ وہ اپنے کام کا جواز پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ کلائمیٹ چینج ایک ایسا سنگین چیلنج ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور اس حوالے سے اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے انہوں نے ملازمت چھوڑنے کا حتمی فیصلہ کیا۔ یہ اقدام کسی بھی فرد کے لیے انتہائی جرات مندانہ ہے، خاص طور پر ایک ایسے شعبے میں جہاں انسان اپنی پوری زندگی وقف کر دیتا ہے۔ اب جیف کولس اپنی زندگی کے نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں وہ طیاروں کے کاک پٹ کے بجائے بیکری کے تندور کے سامنے وقت گزارتے ہیں۔ بیکنگ کے پیشے کو اپنانا ان کے لیے ذہنی سکون کا باعث بنا ہے، کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ یہ کام ماحول کے لیے نقصان دہ نہیں ہے۔ اگرچہ پائلٹ کے طور پر ان کا تجربہ اور مہارت بے پناہ تھی، لیکن اب وہ روٹی اور دیگر بیکری مصنوعات تیار کر کے مقامی کمیونٹی کی خدمت کر رہے ہیں۔ ان کا یہ اقدام دنیا بھر میں ماحولیاتی شعور بیدار کرنے کے لیے ایک مثال بن چکا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ اب اپنے روزگار کے طریقوں کو کرہ ارض کی بقا کے لیے تبدیل کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جیف کی اس کہانی نے ایوی ایشن انڈسٹری میں بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جس میں ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کے لیے پائیدار حل تلاش کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔