Business
سونے اور چاندی میں سرمایہ کاری کا بہترین تناسب کیا ہے؟ ٹاٹا میچوئیل فنڈ کی حکمت عملی
ٹاٹا میچوئیل فنڈ نے سرمایہ کاروں کو 2026 کے لیے اپنے پورٹ فولیو میں سونے اور چاندی کے تناسب پر نظر ثانی کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے کی دفاعی صلاحیت اور چاندی کی ترقی کی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ توازن بہترین ثابت ہوگا۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر سرمایہ کاروں کے لیے اثاثوں کا درست انتخاب ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ اس حوالے سے ٹاٹا میچوئیل فنڈ نے سال 2026 کے لیے ایک اہم حکمت عملی پیش کی ہے جس میں سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے پورٹ فولیو کا 70 فیصد حصہ سونے میں اور 30 فیصد حصہ چاندی میں مختص کریں۔ ماہرین کے مطابق سونے کو اس کی دفاعی خصوصیات، مرکزی بینکوں کی جانب سے مسلسل مانگ اور تنوع فراہم کرنے کے فوائد کی وجہ سے سرمایہ کاری کا محفوظ ترین ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
ٹاٹا میچوئیل فنڈ کے تجزیے کے مطابق، سونا مشکل معاشی حالات میں سرمایہ کاروں کے لیے ایک لنگر کی حیثیت رکھتا ہے جو پورٹ فولیو کو مستحکم رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ دوسری جانب، چاندی نہ صرف ایک قیمتی دھات ہے بلکہ اس کی صنعتی مانگ میں اضافے کے باعث اس میں نمو (Growth) کی کافی صلاحیت موجود ہے۔ حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گولڈ-سلور ریشو (Gold-Silver Ratio) 70 کی سطح پر پہنچ چکا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ چاندی میں طویل مدتی سرمایہ کاری منافع بخش ثابت ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سرمایہ کاروں کو صرف ایک ہی دھات پر انحصار کرنے کے بجائے دونوں کا متوازن مرکب اپنانا چاہیے۔ سونے کی موجودگی جہاں مارکیٹ کے خطرات کو کم کرتی ہے، وہیں چاندی کی شمولیت سے مجموعی ریٹرن میں اضافے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ 2026 کے لیے تیار کی گئی اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد سرمایہ کاروں کو طویل مدت کے لیے ایک مستحکم مالی بنیاد فراہم کرنا ہے۔
واضح رہے کہ بین الاقوامی سطح پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور معاشی غیر یقینی کی صورتحال میں سونے کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر سرمایہ کار اپنے اثاثوں کو سمارٹ انداز میں تقسیم کریں، تو وہ نہ صرف مہنگائی کے اثرات سے بچ سکتے ہیں بلکہ اپنے سرمائے کی قدر میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں۔ ٹاٹا میچوئیل فنڈ کی یہ تجویز خاص طور پر ان لوگوں کے لیے مفید ہے جو کم خطرے کے ساتھ مستحکم منافع کے متلاشی ہیں۔