LIVE
Loading Breaking News...

مودی حکومت کی ناکامی: بھارتی شاہراہوں کی ابتر صورتحال پر عوامی غم و غصہ

News Image
بھارتی وزیر برائے روڈ ٹرانسپورٹ نتن گڈکری کا ایک وائرل کلپ اپوزیشن کی تنقید کا مرکز بن گیا ہے جس میں وہ سڑکوں کے معیار پر دعوے کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں سڑکوں کی تعمیر کے منصوبوں میں بدعنوانی اور ناقص میٹریل نے حکومت کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
بھارت میں انفراسٹرکچر کی ترقی کے بلند و بانگ دعوے اب عوام اور اپوزیشن کے لیے مذاق بنتے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں بھارتی وزیر برائے روڈ ٹرانسپورٹ اینڈ ہائی ویز نتن گڈکری کا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوا ہے، جس میں وہ ایک تقریب کے دوران یہ دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں کہ دبئی کے ایک شہزادے نے وزیر اعظم نریندر مودی سے درخواست کی تھی کہ وہ نتن گڈکری کو دبئی بھیج دیں تاکہ وہ وہاں کی سڑکیں تعمیر کر سکیں۔ اس بیان کے منظر عام پر آنے کے بعد بھارت میں سیاسی حلقوں اور عام شہریوں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جہاں حکومت عالمی سطح پر ترقی کے قصے سنا رہی ہے، وہیں زمینی حقائق انتہائی افسوسناک ہیں۔ بھارت بھر سے آنے والی رپورٹس کے مطابق بڑی بڑی شاہراہیں، جن کی تعمیر پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے تھے، اپنی تکمیل کے چند ماہ بعد ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ خاص طور پر مون سون کے دوران سڑکوں پر بننے والے گڑھے حکومت کی ناقص منصوبہ بندی اور تعمیراتی میٹریل میں بدعنوانی کا پول کھول دیتے ہیں۔ کئی مقامات پر سڑکوں کے دھنسنے اور پلوں کے گرنے کے واقعات نے عام شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی متعدد ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سڑکیں کاغذ کی طرح اکھڑ رہی ہیں، جس سے حکومتی دعووں کی قلعی کھل جاتی ہے۔ ماہرینِ تعمیرات کا ماننا ہے کہ حکومتی پالیسیوں میں معیار کے بجائے ٹھیکیداروں کو نوازنے کا رجحان زیادہ پایا جاتا ہے۔ نتن گڈکری کے دعووں کو اپوزیشن نے مودی سرکار کی 'اشتہاری مہم' کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی حقیقت دبئی کی سڑکوں سے بالکل برعکس ہے اور یہاں ہر سال ہزاروں لوگ سڑک حادثات میں جان کی بازی ہار رہے ہیں جس کی بنیادی وجہ سڑکوں کی خستہ حالی ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ حکومت غیر ضروری دعووں کے بجائے تعمیراتی معیار کی جانچ پڑتال کے لیے شفاف نظام متعارف کرائے تاکہ ٹیکس دہندگان کے پیسوں کا درست استعمال ہو سکے۔ اس صورتحال نے نریندر مودی حکومت کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جب حکومت نے ملک کو ترقی یافتہ بنانے کا وعدہ کیا تھا، تو سڑکوں کا نیٹ ورک اس کی سب سے بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ لیکن اب جب سڑکیں اپنی تباہ حالی کی داستانیں خود سنا رہی ہیں، تو حکومت کے لیے ان سوالات کا جواب دینا مشکل ہو گیا ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ کیا مودی حکومت انفراسٹرکچر کے نام پر صرف میڈیا میں اپنی ساکھ بہتر بنانے میں مصروف ہے یا واقعی ملک کے دور دراز علاقوں میں کوئی حقیقی تبدیلی آ رہی ہے۔