LIVE
Loading Breaking News...

امریکی ڈرون ٹیرف اور چین پر انحصار کا خاتمہ

News Image
امریکہ نے چینی ڈرونز پر نئے ٹیرف عائد کر کے چین کی ٹیکنالوجی تک رسائی کو محدود کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا واشنگٹن کے اتحادی ممالک چین کے متبادل کے طور پر ڈرون سپلائی چین کو سنبھالنے کے قابل ہیں۔
واشنگٹن نے گزشتہ کئی برسوں سے اسٹریٹجک طور پر اہم سپلائی چینز میں چینی ٹیکنالوجی کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے سخت اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس حکمت عملی کا دائرہ کار اب ڈرون ٹیکنالوجی تک وسیع ہو چکا ہے، جہاں ٹرمپ انتظامیہ کے حالیہ ٹیرف کا مقصد نہ صرف چینی ڈرونز کی امریکی مارکیٹ تک رسائی کو روکنا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک متبادل سپلائی چین کی حوصلہ افزائی کرنا بھی ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی آج کے دور میں نہ صرف عسکری بلکہ تجارتی لحاظ سے بھی انتہائی اہم بن چکی ہے، جس پر چین کا غلبہ واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ اس نئے تجارتی اقدام کے تحت، امریکی حکومت ان کمپنیوں کو نشانہ بنا رہی ہے جو چینی ساختہ پرزہ جات یا مکمل ڈرونز پر انحصار کرتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس بات کا امتحان ہے کہ کیا امریکہ کے اتحادی ممالک، جیسے کہ یورپی یونین کے رکن ممالک، جاپان اور دیگر ٹیکنالوجی پارٹنرز، اپنی پیداواری صلاحیت کو اس حد تک بڑھا سکتے ہیں کہ وہ چینی متبادل بن سکیں۔ چین نے گزشتہ دہائی میں ڈرون مینوفیکچرنگ میں اپنی قیمتوں اور ٹیکنالوجی کے ذریعے جو برتری حاصل کی ہے، اسے راتوں رات تبدیل کرنا ایک بڑا چیلنج ہے، کیونکہ دیگر ممالک کے پاس ابھی تک بڑے پیمانے پر ڈرون تیار کرنے کا لاگت کے لحاظ سے موثر انفراسٹرکچر موجود نہیں ہے۔ دوسری جانب، صنعت کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ پابندیاں عالمی سطح پر ڈرون قیمتوں میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں، جس سے صارفین اور چھوٹی کمپنیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگرچہ امریکہ کا مقصد قومی سلامتی کو یقینی بنانا ہے، لیکن اس اقدام کے نتیجے میں عالمی تجارت میں نئے تنازعات جنم لے سکتے ہیں۔ کئی ممالک اب یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ آیا وہ امریکی دباؤ کے تحت چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کو محدود کریں یا اپنی آزادانہ ٹیکنالوجی پالیسی کو جاری رکھیں۔ آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ کیا دنیا ایک ایسی سپلائی چین کی طرف بڑھ رہی ہے جو چین سے آزاد ہو، یا پھر عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ مزید تقسیم کا شکار ہو جائے گی۔