LIVE
Loading Breaking News...

آرٹیفیشل انٹیلی جنس میں عالمی سرمایہ کاری: 2026 تک ایک ٹریلین ڈالر کا ہدف

News Image
گولڈمین سیکس ریسرچ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سرمایہ کاری کی شرح میں تیزی سے اضافہ متوقع ہے۔ سال 2026 تک یہ سرمایہ کاری 1 ٹریلین ڈالر کی سطح کو چھو لے گی اور 2028 تک یہ عالمی جی ڈی پی کا 1.4 فیصد بن جائے گی۔
عالمی مالیاتی ادارے گولڈمین سیکس کی حالیہ تحقیق نے مصنوعی ذہانت (AI) کے مستقبل کے حوالے سے ایک انتہائی مثبت پیشگوئی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی سرمایہ کاری کی رفتار میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے اور توقع ہے کہ یہ سرمایہ کاری 2026 تک 1 ٹریلین ڈالر کی حد کو پار کر لے گی۔ اس تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ AI سے متعلق کیپٹل ایکسپنڈیچر یعنی بنیادی اخراجات میں اضافہ قلیل مدتی اور طویل مدتی دونوں اعتبار سے بہت مستحکم رہے گا۔ رپورٹ کے مطابق آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر ہونے والے اخراجات عالمی معیشت کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ فی الحال مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کی شرح عالمی جی ڈی پی کا 0.9 فیصد ہے، تاہم 2028 تک یہ بڑھ کر 1.4 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اور عالمی مالیاتی ادارے AI کو مستقبل کی سب سے بڑی معاشی طاقت کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور اس شعبے میں بھاری فنڈز جھونکنے کے لیے تیار ہیں۔ مزید برآں، گولڈمین سیکس نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ یہ سرمایہ کاری بڑی ہے، لیکن اس کے اثرات صرف تکنیکی شعبے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ صنعت، مینوفیکچرنگ اور سروسز کے شعبوں کو بھی تبدیل کر دیں گے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر سرمایہ کاری کا زیادہ تر حصہ ہارڈویئر اور انفراسٹرکچر پر خرچ ہو رہا ہے، لیکن جیسے جیسے ٹیکنالوجی مزید پختہ ہوگی، سافٹ ویئر اور ایپلی کیشنز کی مانگ میں بھی زبردست اضافہ ہوگا۔ یہ پیش رفت نہ صرف عالمی معیشت کی پیداواری صلاحیت کو بڑھائے گی بلکہ لیبر مارکیٹ اور ملازمتوں کے رجحانات میں بھی نمایاں تبدیلی لائے گی۔ آخر میں، رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آنے والے سالوں میں حکومتیں اور بڑے کارپوریٹ ادارے AI کے فروغ کے لیے اپنی حکمت عملیوں کو مزید مستحکم کریں گے۔ ایک ٹریلین ڈالر کی یہ خطیر رقم اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کا دور اب تجرباتی مرحلے سے نکل کر عملی نفاذ کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ گلوبل جی ڈی پی میں 1.4 فیصد حصہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آنے والے وقت میں دنیا بھر کی معاشی ترقی کا انحصار براہ راست آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مہارت اور اس کے درست استعمال پر ہوگا۔