World
یوکرین کی فضائی دفاعی صلاحیتوں میں خطرناک کمی اور روس کے حملے
یوکرین کے دفاعی نظام کو روس کے بڑھتے ہوئے فضائی حملوں کے پیش نظر شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ انٹرسیپٹرز کی قلت کے باعث یوکرین کے بڑے شہروں اور فوجی تنصیبات کا تحفظ مشکل ہو گیا ہے۔
یوکرین کی اپنے شہروں اور فوجی تنصیبات کو روسی فضائی حملوں سے بچانے کی صلاحیت میں تیزی سے تنزلی دیکھی جا رہی ہے۔ مغربی میڈیا کی رپورٹس اور یوکرین کی فوج کے سابق سربراہ ویلری زالوژنی کے حالیہ بیانات کے مطابق، یوکرین کا فضائی دفاعی نظام اب اپنی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ انٹرسیپٹر میزائلوں کے ختم ہوتے ہوئے ذخائر نے کیئف اور دیگر اہم علاقوں کو روسی ڈرونز اور میزائلوں کے سامنے غیر محفوظ بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں دفاعی توازن بگڑتا جا رہا ہے۔ جنگ کے طویل عرصے نے یوکرین کی عسکری صلاحیتوں کو بری طرح متاثر کیا ہے اور اب اسے فیلڈ میں نئی اختراعات کی کمی کا سامنا ہے۔ روس نے اپنی فضائی حکمت عملی کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس سے یوکرین کے پاس موجود محدود وسائل پر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ یوکرین کے پاس اب صرف وہی دفاعی آلات بچے ہیں جو انتہائی ضروری مقامات کے تحفظ کے لیے مخصوص ہیں، جبکہ عام شہری آبادی اب پہلے کی نسبت زیادہ خطرات سے دوچار ہے۔ دوسری جانب، ویلری زالوژنی نے اس صورتحال کو ایک بحرانی موڑ قرار دیا ہے، جہاں یوکرین کے لیے اپنے دفاعی ڈھانچے کو برقرار رکھنا ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ مغربی ممالک سے ملنے والی عسکری امداد کی رفتار اور مقدار اب یوکرین کی زمینی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہی ہے۔ اگر یوکرین کو جلد نئے انٹرسیپٹرز اور جدید ایئر ڈیفنس سسٹم فراہم نہیں کیے گئے تو روس کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملے ملک کے اہم انفراسٹرکچر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ موجودہ تناظر میں یوکرین کی دفاعی حکمت عملی اب جارحانہ کے بجائے مکمل طور پر بچاؤ کی طرف منتقل ہو چکی ہے، جو کہ جنگی میدان میں یوکرین کے لیے انتہائی تشویشناک علامات ہیں۔