Technology
یو پی آئی بمقابلہ کارڈ ادائیگی: مرچنٹس کے لیے یو پی آئی مفت کیوں ہے؟
ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں یو پی آئی اور کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈز کے درمیان بنیادی فرق ایم ڈی آر چارجز کا ہے۔ حکومت نے ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کے لیے یو پی آئی ٹرانزیکشنز کو فی الحال فیس سے مستثنیٰ رکھا ہے۔
موجودہ دور میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جہاں یو پی آئی (UPI) اور بینک کارڈز ادائیگی کے دو مقبول ترین ذرائع بن کر ابھرے ہیں۔ تاہم، مرچنٹس اور کاروباری طبقے کے لیے ان دونوں طریقوں کے اخراجات میں واضح فرق موجود ہے۔ کارڈ کے ذریعے ہونے والی ادائیگیوں پر تاجروں کو 'مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ' (MDR) ادا کرنا پڑتا ہے، جبکہ یو پی آئی فی الحال تاجروں کے لیے مکمل طور پر مفت ہے۔ اس فرق کی بنیادی وجہ ان دونوں نظاموں کا تکنیکی انفراسٹرکچر اور ان کے پیچھے کام کرنے والے مالیاتی ماڈلز ہیں۔ کارڈ ٹرانزیکشنز کے عمل میں بینک، پیمنٹ نیٹ ورکس اور ادائیگی کرنے والے گیٹ ویز شامل ہوتے ہیں، جو اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے ہر لین دین پر ایک مخصوص فیصد کٹوتی کرتے ہیں۔
اس کے برعکس، یو پی آئی ایک ایسا نظام ہے جسے حکومت اور مرکزی بینکوں کی جانب سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو عام کرنے کے لیے پروموٹ کیا گیا ہے۔ یو پی آئی کے ذریعے رقم کی منتقلی براہ راست بینک اکاؤنٹ سے دوسرے اکاؤنٹ میں ہوتی ہے، جس میں کسی تیسرے فریق کی زیادہ مداخلت یا پیچیدہ کلیئرنگ سسٹم شامل نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے یو پی آئی کو عام آدمی اور چھوٹے تاجروں کے لیے بوجھ سے آزاد رکھنے کے لیے اسے زیرو ایم ڈی آر زون میں رکھا ہے۔ اس اقدام کا مقصد کیش کے استعمال کو کم کرنا اور معیشت کو ڈیجیٹل طور پر شفاف بنانا ہے۔ جب کوئی گاہک یو پی آئی کے ذریعے ادائیگی کرتا ہے، تو یہ ٹرانزیکشن بینکوں کے لیے کم لاگت کا باعث بنتی ہے، جس کی وجہ سے تاجروں پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑتا۔
اگر مستقبل میں یو پی آئی پر کوئی چارجز عائد کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے، تو ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ طریقہ کار بہت محتاط اور مرحلہ وار ہو گا۔ اس کے لیے حکومت اور ریگولیٹرز کو ایسے ماڈل کی ضرورت ہوگی جو چھوٹے تاجروں کے منافع کو متاثر نہ کرے۔ اگر کسی قسم کی فیس متعارف کرائی جاتی ہے تو وہ ممکنہ طور پر بڑی ٹرانزیکشنز یا مخصوص کاروباری حجم کے لیے ہو سکتی ہے، تاکہ ڈیجیٹل انڈیا کے ویژن کو نقصان نہ پہنچے۔ فی الحال، یو پی آئی کا مفت ماڈل ہی اس کی مقبولیت کا سب سے بڑا سبب ہے، جس نے بھارت سمیت کئی ممالک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ تاجروں کے لیے یہ سہولت نہ صرف اخراجات میں کمی لاتی ہے بلکہ گاہکوں کے ساتھ لین دین کو بھی تیز اور محفوظ بناتی ہے۔