Technology
فلوک سرویلنس کیمروں کے خلاف امریکی شہروں میں بڑھتی ہوئی تحریک
امریکہ میں مقامی حکومتوں کی جانب سے فلوک سرویلنس کیمروں کے استعمال پر پابندی کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ شہری آزادیوں کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی نجی زندگی میں غیر ضروری مداخلت کا باعث بن رہی ہے۔
امریکہ بھر میں مقامی حکومتوں اور شہریوں کی جانب سے 'فلوک' (Flock) سرویلنس کیمروں کے استعمال کے خلاف ایک منظم مزاحمت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، جولائی کے مہینے میں امریکہ کے 20 سے زائد مقامی دائرہ کاروں نے یا تو ان کیمروں کا استعمال مکمل طور پر بند کر دیا ہے یا انہیں ہٹانے کے عمل کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ اعداد و شمار 'ڈی فلوک' نامی ایک کارکن گروپ کے جاری کردہ ٹریکر سے حاصل کیے گئے ہیں، جو ملک بھر میں ان کیمروں کے تنصیب کے مقامات کا نقشہ بنا رہا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی مخالفت کو ماہرین بگ ٹیک کمپنیوں کے ہاتھوں شہریوں کی نجی زندگی کی نگرانی کے خلاف ایک بڑی جنگ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
فلوک کیمرے بنیادی طور پر خودکار لائسنس پلیٹ ریڈر (ALPR) ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں، جو گزرنے والی ہر گاڑی کا ڈیٹا اکٹھا کرتی ہے اور اسے ایک مرکزی ڈیٹا بیس سے جوڑ دیتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی مسلسل نگرانی شہریوں کی پرائیویسی کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ مقامی حکام کا مؤقف رہا ہے کہ یہ کیمرے جرائم کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا استدلال ہے کہ کسی بھی واضح جرم کے ارتکاب سے پہلے ہی شہریوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا ایک 'نگرانی والی ریاست' (Surveillance State) کے قیام کی جانب قدم ہے۔
یہ تحریک صرف ایک ٹیکنالوجی کے خلاف نہیں بلکہ بگ ٹیک کمپنیوں کے اس اثر و رسوخ کے خلاف بھی ہے جو مقامی حکومتوں کے ساتھ مل کر عوامی نگرانی کا ایک جال بُن رہی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک غیر معمولی دو جماعتی (Bipartisan) اتحاد ہے، جہاں بائیں اور دائیں بازو کے سیاست دان نجی آزادیوں کے تحفظ کے لیے یکجا ہو رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ عوامی مقامات پر نگرانی کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجیز کے حوالے سے مزید شفافیت اور قانونی ضوابط کا ہونا لازمی ہے۔
مستقبل میں یہ تنازعہ مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے کیونکہ جیسے جیسے مصنوعی ذہانت اور نگرانی کے جدید آلات سستے اور عام ہو رہے ہیں، شہری حقوق کے گروہ حکومتوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اپنی حدود کا تعین کریں۔ فلوک جیسی کمپنیوں کے لیے اب یہ ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے کہ وہ کس طرح اپنے کاروبار کو عوامی اعتماد کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔ یہ معاملہ اس وسیع تر بحث کا حصہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے دور میں ہم اپنی حفاظت اور پرائیویسی کے درمیان توازن کیسے قائم رکھ سکتے ہیں۔