LIVE
Loading Breaking News...

امریکی شہریوں میں جوا کھیلنے کی شرح میں کمی کی وجوہات

News Image
امریکہ میں ایک دہائی قبل کے مقابلے میں جوا کھیلنے والے افراد کی تعداد میں بڑی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ روایتی جوئے کے کھیلوں میں لوگوں کی دلچسپی تیزی سے کم ہو رہی ہے۔
واشنگٹن ڈی سی میں کی جانے والی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق امریکہ میں جوا کھیلنے کے رجحان میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دس سال پہلے کی نسبت اب امریکی شہریوں کی بڑی تعداد مختلف قسم کے جوئے بازی کے مقابلوں میں حصہ لینے سے گریز کر رہی ہے۔ یہ رحجان خاص طور پر ان تین اہم ترین اقسام کے کھیلوں میں دیکھا گیا ہے جو ماضی میں امریکہ میں سب سے زیادہ مقبول سمجھے جاتے تھے۔ اس تحقیق کے نتائج بتاتے ہیں کہ سماجی عادات اور تفریح کے ذرائع میں تبدیلی کے باعث جوئے کی سرگرمیوں میں دلچسپی کم ہوئی ہے۔ اگرچہ ماضی میں امریکی معاشرے میں لاٹری، کیسینو اور دیگر اقسام کے سٹے بازی کے مقابلے بڑے پیمانے پر رائج تھے، لیکن اب حالات مختلف ہیں۔ محققین اس رجحان کے پیچھے بڑھتی ہوئی شعوری بیداری، مالیاتی خدشات اور ڈیجیٹل تفریح کے نئے متبادل ذرائع کو بنیادی وجوہات قرار دے رہے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق، اس گراوٹ کی ایک بڑی وجہ نوجوان نسل کا جوئے کی طرف کم مائل ہونا ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ اب تفریح کے دیگر ذرائع جیسے ویڈیو گیمز اور آن لائن پلیٹ فارمز نے جوئے کی جگہ لے لی ہے۔ اس کے علاوہ، جوئے کے نقصانات اور اس سے جڑے سماجی مسائل کے حوالے سے عوامی آگاہی مہمات نے بھی لوگوں کو اس لت سے دور رہنے میں مدد فراہم کی ہے۔ مزید برآں، یہ رجحان صرف کسی ایک مخصوص ریاست تک محدود نہیں ہے بلکہ امریکہ بھر میں یکساں طور پر دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہی رحجان جاری رہا تو آنے والے برسوں میں جوئے بازی کے کاروبار اور اس سے منسلک صنعتوں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ فی الحال، امریکی حکام اور سماجی تنظیمیں اس کمی کو ایک مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں جس سے خاندانوں کی مالی اور ذہنی صحت پر بہتر اثرات مرتب ہوں گے۔