Politics
نیتنیاہو اور ٹرمپ تعلقات: زیلنسکی جیسی صورتحال سے گریز کی وجوہات
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتنیاہو نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران محتاط رویہ اختیار کیا۔ سفارت کاروں جیفری فیلٹ مین اور مائیکل رٹنی کے مطابق، اس کی بنیادی وجہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی جیسی کسی بھی غیر متوقع یا متنازعہ سیاسی صورتحال سے گریز کرنا تھی۔
عالمی سفارتی حلقوں میں اس بات پر طویل بحث جاری ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتنیاہو نے امریکی سیاست بالخصوص ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات میں کس حکمت عملی کو اپنایا۔ معروف سفارت کاروں جیفری فیلٹ مین اور مائیکل رٹنی کے حالیہ تجزیوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ نیتنیاہو نے انتہائی نپا تلا رویہ اس لیے رکھا تاکہ وہ کسی بھی ایسے موقع سے بچ سکیں جسے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی بعض کشیدہ ملاقاتوں سے تشبیہ دی جا سکے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ زیلنسکی اور ٹرمپ کے درمیان ماضی میں ہونے والے سیاسی تبصروں نے یوکرین کے لیے کچھ سفارتی مشکلات پیدا کی تھیں۔ بنجمن نیتنیاہو بخوبی جانتے ہیں کہ امریکی سیاست میں ڈونلڈ ٹرمپ کا اندازِ حاکمانہ اور غیر متوقع بیانات کتنے اثرات کے حامل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی قیادت نے ہمیشہ واشنگٹن کے دوروں اور ملاقاتوں کے دوران اس امر کو یقینی بنایا کہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا تنقید کی گنجائش نہ چھوڑی جائے جو دو طرفہ تعلقات پر اثر انداز ہو سکے۔
اسرائیلی حکومت کے لیے امریکہ میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل رکھنا انتہائی لازمی جزو ہے۔ نیتنیاہو کی کوشش رہی ہے کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات بھی استوار رکھیں اور ساتھ ہی امریکی کانگریس یا ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ کسی بھی محاذ آرائی سے بچیں۔ اس متوازن حکمت عملی نے انہیں اس قابل بنایا کہ وہ اپنے سیاسی مقاصد بھی حاصل کریں اور زیلنسکی کی طرح کسی ناپسندیدہ امریکی سیاسی تنازعہ کی زد میں آنے سے بھی محفوظ رہیں۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی اسرائیلی خارجہ پالیسی اسی احتیاط پر مبنی رہے گی۔ دنیا بھر میں بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے کے پیش نظر، رہنماؤں کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ سپر پاورز کے اندرونی سیاسی دھڑوں میں توازن برقرار رکھیں تاکہ ملکی مفادات کو کسی بھی قسم کے ذاتی یا جماعتی تنازعات سے نقصان نہ پہنچے۔ نیتنیاہو کا یہ محتاط رویہ اسی طویل مدتی سفارتی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔